اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1316 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1316

عم ٣٠ ۱۳۱۶ قريش ١٠٦ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ خَمْسُ آيَاتٍ وَّ رُكُوعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ قریش کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اُس اللہ کے نام کی مدد سے جو رحمن و رحیم ہے۔۔اللہ نے قریش میں الفت ڈالی ہے۔لا يلف قُرَيْشن الفِهِمْ رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ۔ان کو الفت دی جاڑے اور گرمی کے سفر میں۔فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ 6 ۴۔تو انہیں چاہیے کہ عبادت کیا کریں اس گھر کے رب کی۔الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوعٍ ۵۔جس نے ان کو بھوک کے وقت کھانا دیا اور ہر قسم کے خوف سے امن میں رکھاتے۔وَأَمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ 6 لا ترجمه دیگر آیت نمبر ۳۲ قریش کو اُلفت دلانے کے لئے ، ان کو الفت دلائی سردی اور گرمی کے سفر کی۔ے یعنی تجارتوں میں ترقی دی اور دور دراز ملکوں کا ان پر سفر آسان کر دیا کھانے پینے کا سامان فراغت سے دیا۔آیت نمبر ۳ - رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيف - قریش تجارت کے واسطے ہر سال دوسفر کرتے تھے۔موسم سرما میں۔افریقہ۔ہند۔یمن کی طرف جاتے تھے اور موسم گرما میں شام ، ایران کی طرف جاتے تھے۔پھر اس میں ایک پیشگوئی بھی مخفی ہے کہ اے قریش ! خدا تعالیٰ نے تمہارے واسطے بڑے بڑے سفر مقدر کر رکھے ہیں۔وہ سفر ایسے نہ ہوں گے کہ تم جس موسم میں جاؤ اسی میں تم واپس آسکو۔بلکہ وہ لمبے سفر ہوں گے جن میں تم کو سردیاں بھی گزارنی پڑیں گی اور گرمیاں بھی گزارنی ہوں گی۔شتاء میں ایران۔مصر۔یورپ میں اور صیف میں افریقہ ، ہندوستان۔چین۔جاوا۔عرب میں چھ جماعتیں تھیں اور یہ چھ طرف مختلف موسموں میں سفر کرتیں (۱) عراق کی طرف جہاں مجوسی اور صابی رہتے تھے (۲) شام کی جانب جہاں یہودی رہتے تھے (۳) یوروپ کی طرف جہاں نصرانی رہتے تھے۔گرمی میں تین جماعتیں ان ملکوں میں جاتی تھیں (۴) اور جاڑوں میں افریقہ کی طرف جہاں وحشی قو میں رہتی تھیں (۵) ہندوستان کی طرف جہاں ہندو اور آریہ رہتے تھے (1) چین کی طرف جہاں چینی فلاسفر رہتے تھے ادھر بھی تین جماعتیں جاتی تھیں۔یہ قوم اسلام کی اشاعت بھی کرتی تھی جس سے اسلام تھوڑے ہی دنوں میں دور دراز ملکوں میں پہنچ گیا۔خدا نے ان قوموں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم نے ایسا پاکیزہ مذہب بھی دنیا میں کہیں دیکھا ہے۔