اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1315 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1315

۱۳۱۵ سُوْرَةُ الْفِيلِ مَكَّيَّةٌ وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ سِتُ آيَاتٍ وَّ رُكُوعٌ الفيل ١٠٥ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ فیل کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ رحمن و رحیم کے نام کی مدد سے۔الَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ - تجھے نہیں معلوم کیا برتاؤ کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ ( تو کیا تیری طرف سے بِأَصْحُبِ الْفِيْلِ کچھ ان دشمنوں کو نہ ہٹائے گا ایسا تو ہو گا نہیں)۔المْ يَجْعَلُ كَيْدَهُمْ فِي تَصْلِيْلٍ۔کیا ( ان کو حملہ سے قبل ہلاک کر کے ) ان کے منصوبہ کو باطل نہیں کر دیا۔۴۔اور ان پر چھنڈ کے جھنڈ پرندوں کے بھیجے۔وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجَيْلٍ ۵۔جو ان پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے لی۔فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ نچ۔تو ان کو ایسا کر ڈالا جیسے چبایا ہوا بھوسا۔۶ لے ترجمہ دیگر۔جو ان پر پھینکتے تھے پتھروں سے جومٹی اور پتھر سے مرکب تھے۔آیت نمبر ۲۔اَلَمْ تَرَ - کے معنے اَلَمْ تَعْلَمُ کے ہیں کیونکہ اصحاب الفیل کا واقعہ متواتر بیان سے ایسا معتبر اور صلى الله مشہور تھا کہ رؤیت اور علم کا حکم رکھتا تھا۔جس سال اصحاب فیل تباہ ہوئے۔اسی سال پیغمبر خدا علی پیدا ہوئے۔آپ کی ولادت ۲۲ / اپریل ۵۷۱ ء کو ہوئی۔آپ کی ولادت باسعادت کے سال اصحاب الفیل کا واقعہ بطور توطیہ و تمہید کے تھا۔مطلب یہ ہے جب ہم نے تیرے آنے سے پہلے ہی پہلے تیرے وطن کی حفاظت کی تو اب کیا تیرے کو دشمنوں کے ہاتھ میں چھوڑ دیں گے اور کیا تیرے مخالف تجھ پر غالب ہوں گے؟ ایسا تو کبھی ہوگا نہیں۔آیت نمبر ۴ - ابابیل۔جھنڈ کے جھنڈ فوج در فوج۔آیت نمبر ۵ - ترمینه - شکاری جانور پتھروں پر پٹک کر گوشت کھاتے ہیں۔نرمی کے معنے سیلاب۔حَصْبَه - جدری - طیور کے بھی ہیں۔کنکر پتھر کا پھینکنا۔