اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1314
عم ٣٠ ۱۳۱۴ الهمزة ١٠٤ سُوْرَةُ الْهُمَزَةِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ عَشُرُ آيَاتٍ وَّ رُكُوعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔اس بابرکت اللہ کے نام کی مدد سے پڑھتا ہوں جو رحمن و رحیم ہے۔وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةٍ 3 الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُن يَحْسَبُ أَنَّ مَالَةٌ أَخْلَدَهُ كَلَّا لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ وَمَا أَدْرِيكَ مَا الْحُطَمَةُ ) نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ ) فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ ن ۲۔ہر ایک عیب چین غیبت کرنے والے پر افسوس ہے۔۔جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا۔۴۔وہ خیال کرتا ہے کہ اُس کا مال اسے ہمیشہ ایک حالت پر رکھے گا۔۵۔ہرگز نہیں بلکہ وہ حُطَمَہ میں ڈالا جائے گا۔۔اور تو کیا سمجھا کہ حُطَمَہ کیا چیز ہے؟ ے۔اللہ کی دہکائی ہوئی آگ ہے۔۔جو دلوں پر بھڑکتی ہے۔۹۔بے شک وہ ان پر بند کی جائے گی۔۔لمبے لمبے ستون کے گھروں میں (یاستونوں کی شکل میں )۔آیت نمبر ۸ - الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ - جو شخص مال کے فکروں میں چور رہتا ہے۔اس کے دل پر ذرا ذرا سے نقصان کے وقت آگ کی لپٹ کی طرح صدمات شعلہ زن ہوتے رہتے ہیں۔اسی دنیا میں ایسا زندہ در آتش ہوتا ہے۔