اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1313 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1313

۱۳۱۳ العصر ١٠٣ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ۴۔ہاں جنہوں نے سچے دل سے اللہ کو مانا اور وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ عَ بھلے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کرتے رہے۔اور پیچھے لگے رہے صبر کرانے کے (یعنی نیکیوں پر جمے رہے اور بدیوں سے بچتے رہے۔لوگوں سے بھی اس پر عمل کراتے رہے )۔(بقیہ حاشیہ) کا نہ کیا وہ ٹوٹے ہی میں رہا مگر چار صفت والے نقصان نہیں اٹھائیں گے (۱) ایماندار (۲) نیک عمل والا (۳) سچا علم دوسرے کو سکھانے والا (۴) معمول کے پیچھے لگا رہنے والا۔انسان کی عمر بے بدل گھٹ رہی ہے اور ہر ایک چیز کے ساتھ خواہ مملوک ہو یا غیر مملوک انسان کو اپنی عمر اور زندگی میں ہی تعلق ہوتا ہے۔زمانہ کی رفتار ہمارے تمام تعلقات کو اڑا رہی ہے جن کا نقش قدم بھی باقی نہیں رہتا مگر علم و غور سے دیکھتا ہے۔مثلاً کسی جگہ میں سال رہتا ہے۔اب اس کو کوئی ملک مان لو یا عمرمان لو۔جب ایک سال گزر جائے تو انیسواں حصہ جاتا رہا۔اسی طرح ہر روز گھٹتی ہی جائے گی۔کسی شاعر نے کہا۔اے غافل تجھے گھڑیال یہی دے ہے منادی خالق نے گھڑی عمر سے ایک اور گھٹا دی نادان سمجھتا ہے میری عمر بڑھ رہی ہے۔میں کامیاب ہو رہا ہوں حالانکہ معاملہ برعکس ہے۔اگر اس عمر کو ایمان اور عمل صالح اور مرضیات الہی میں صرف کیا جائے تو پھر گھانا نہیں پائے گا بلکہ نفع کا مستحق ہوگا۔آگے خود استثناء فرمایا ہے۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ الخ - آیت نمبر ۴۔وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۔کی نسبت بھی حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو حق بات جانتا ہے اور بیان نہیں کرتا وہ گونگا شیطان ہے۔دوسری حدیث میں ہے کہ ایسے کو بروز قیامت آگ کی لگام چڑھائی جائے گی (۱) ایمان (۲) اعمال صالحہ (۳) وصیت بالحق (۴) اور وصیت بالصبر جو اسلام کا نچوڑ ہے اس چھوٹی سی سورۃ میں بیان فرما دیا۔اسی لئے صحابہ رضی اللہ عنہم بطور تذکیر ملاقاتوں کے وقت ایک دوسرے کو سنا دیا کرتے۔احباب بھی اس سنت صحابہ پر عمل کریں۔کوشش زدہ اثرے دارد۔وصیت پالحق میں اتنا غلو نہ کرے کہ هَـمـز لمز تک نوبت پہنچ جائے۔