اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1310
عم ٣٠ ۱۳۱۰ سُوْرَةُ الْعَادِيَاتِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ اِثْنَتَا عَشْرَةَ ايَةً وَّ رُكُوعٌ العديت ١٠٠ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ عادیات کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ وَالْعَدِيتِ ضَبْحَانَ فَالْمُوْرِيتِ قَدْحان فَالْمُغِيرَتِ صُبحان فَأَثَرْنَ بِهِ نَفْعًان فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًان إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودُ وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ وَإِنَّهُ لِحُبُّ الْخَيْرِ لَشَدِيدُة بزرگ کے اسم شریف سے جو رحمن اور رحیم ہے۔۲۔قسم ہے ان کی جو دوڑتے دوڑ تے ہانپ اٹھتے ہیں۔۳۔نیز ان گھوڑ سواروں کی جن کے مرکب چوٹ مارکر چنگاریاں نکالتے ہیں۔۔پھر صبح ہی صبح حملہ کرنے والوں کی۔۵۔پھر دوڑ دھوپ سے گر داٹھاتے ہیں۔۶۔پھر جماعت کے بیچ میں جا گھستے ہیں۔۔ے۔بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔۔اور بے شک وہ خود ہی اس بات کا گواہ ہے۔۹۔اور البتہ وہ مال کی محبت کا بڑا دلدادہ ہے۔أفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِةُ ۱۰۔پس کیا وہ نہیں جانتا کہ جو کچھ قبروں میں ہے انہیں اٹھایا جائے گا۔یعنی دیکھو گھوڑے تمہارے لئے کس قدر محنت مشقت اٹھاتے ہیں تم اللہ کا کیا کام کرتے ہو۔آیت نمبر 1۔جَمْعًا۔یعنی دیکھو گھوڑے تمہارے لئے کس قدر محنت و مشقت اٹھاتے ہیں۔تم اللہ کا کیا کام کرتے ہو۔کسی نے کہا کہ اس سے مرادریل بھی ہے۔ہانپتا ریل کا ظاہر ہے۔جس کا اظہار دھوئیں سے ہو رہا ہے۔چنگار یہیں بھی اُس سے ظاہر ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ اور انسان با وجود ایسی آسان سواریوں کے ملنے کے شکر نہیں کرتا اور اس کی عبادتوں میں مشغول نہیں ہوتا۔عجائب قدرت کا نظارہ دیکھ کر بھی غافل ہورہا ہے۔اس میں یہ بھی اشارہ ہے۔ضرور جنگ ہوں گے اور سوار یہیں کام آئیں گی۔سواریوں کی فرمانبرداری دیکھ کر ناشکری اور تکبر کا پہلو نہ اختیار کرنا۔آیت نمبر 9 - وَإِنَّهُ لِحُبّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ - شَدِيدٌ کے معنے بخیل اور ممسک کے بھی ہیں۔معنی آیت یہ ہیں کہ دل کے ہر گوشے میں مال کی محبت جاگزیں ہو گئی ہے کہ رب کی وفاداری کے لئے کوئی گوشہ خالی نہ رہا۔