اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1306
القدر ٩٧ الَمْ يَعْلَمُ بِأَنَّ اللَّهَ يَرى ۱۵۔کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھتا ہے (اس کی بُری حرکتیں)۔كَلَّا لَبِنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ ۱۶۔وہ سُن رکھے کہ اگر وہ باز نہ آئے گا نَاصِيَةِ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ۱۷۔تو ضرور اسے گھسیٹیں گے اس کی بڑی جو پکڑ کے لے (کس کی یعنی ) جھوٹے خطا کار کی۔۱۸۔چاہئے کہ وہ بلا لیں اپنے ہم نشینوں کو۔۱۹۔ہم بھی اب بلائے لیتے ہیں آتشی فرشتوں کو۔كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ۲۰۔نہیں نہیں اس کا کہا نہ مان اور سجدہ کر اور اللہ کے نزدیک ہو۔سُوْرَةُ الْقَدْرِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ سِتُ آيَاتٍ وَّ رُكُوعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ ا۔ہم سورہ قدر کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے اسم پاک کی مدد سے جو رحمن و رحیم ہے۔إنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِةً ۲۔بے شک ہم نے اس کو شب قدر میں اتارا ہے۔لے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف ماتحت ہو جائیں گے۔آیت نمبر ۱۶۔بِالنَّاصِيَةِ۔عرب میں غلاموں کی جو ( جٹو رکھنا یعنی سر پر بالوں کی لٹ رکھنا ) رکھا کرتے تھے۔جب وہ اس کو آزاد کرتے تو جٹو کو کاٹ دیتے کیونکہ جٹو اطاعت اور غلامی کا نشان تھا۔سورۃ القدر آیت نمبر ۲ - لَيْلَةُ الْقَدْرِ - ہزار مہینے کے ۸۳ سال چار ماہ ہوتے ہیں۔اس کے بعد دوسرے مامور و مجد دکا زمانہ شروع ہو جاتا ہے کیونکہ اس قدر عرصے کے واقعات دنیا میں بخوبی بھولے جاتے ہیں۔بلکہ سو برس کے بعد وہ واقعات بھولے جاتے ہیں اس لئے پھر مجدد کی ضرورت پڑتی ہے تو جس وقت مجد د آتا ہے تو وہ لیلتہ القدر کی رات ہے۔مشکوۃ میں لکھا ہے رمضان مبارک کے پچھلے عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔مامور کی بعثت کا زمانہ بھی شب قدر ہے۔محققین کے نزدیک تمام سال میں ہر رات اس کو تلاش کرنا چاہیے اور تہجد کے دوام کا یہی سر ہے اور آنحضرت ﷺ نے جو شب قدر کو دیکھا۔وہ ایک خاص بات تھی