اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1305
كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى انْ رَّاهُ اسْتَغْنى ان إلى رَبِّكَ الرُّجعي ارَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَعَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى ارَعَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى ۱۳۰۵ العلق ٩٦ ے۔کچھ شک نہیں یقینا انسان سرکشی کرتا ہے۔۸۔جب وہ اپنے کو مالدار دیکھتا ہے۔۹۔(اور اس میں بھی) کچھ شک نہیں کہ تیرے رب کی طرف لوٹنا ہے۔۱۰۔تو نے اس شخص کو دیکھا جو روکتا ہے اا۔بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔۱۲۔بھلا تو دیکھ تو سہی اگر یہ شخص ہدایت پر ہوتا۔۱۳۔اور تقویٰ کا حکم کرتا ( تو کیا اچھا ہوتا )۔۱۴۔کیا تو نے دیکھا کہ اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی ( تو اب کیا حال ہوگا )۔(بقیہ حاشیہ) کو پہلے بچے خواب شروع ہوئے جو آپ خواب میں دیکھتے ویسا ہی ظاہر ہوتا۔پھر آپ کو تنہائی اچھی معلوم ہونے لگی۔کئی کئی دن کا کھانا غارِ حرا میں لے جاتے۔وہاں عبادت کرتے۔پھر حضرت خدیجہ کے پاس آتے۔پھر اسی طرح جاتے۔یہاں تک کہ وحی کا نزول ہوا یعنی جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپ سے کہا پڑھو۔آپ نے فرمایا۔میں پڑھنا نہیں جانتا۔تو آپ فرماتے ہیں کہ جبرائیل نے مجھے پکڑ کر ایسا زور سے دبایا کہ مجھے تکلیف معلوم ہوئی۔پھر چھوڑ کر کہا کہ پڑھو۔میں نے وہی جواب دیا۔پھر تیسری مرتبہ ویسا ہی دبایا پھر چھوڑ کر کہا۔پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے بنایا۔یہاں تک کہ پڑھایا مَا لَمْ يَعْلَمُ تک۔پس آپ ان آیتوں کو لے کر آئے اور وحی کے دبدبہ سے آپ کا جسم مبارک کا نپتا تھا۔آپ یہ فرماتے آئے کہ مجھے کچھ کپڑا اوڑھاؤ۔تو آپ کو کپڑا اوڑھایا۔تو جب آپ کی کپکپی موقوف ہوئی ( بخاری ) پھر آپ کی بیوی حضرت خديجة الكبرى به حالت دیکھ کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔یہ عیسوی مذہب کا بڑا فاضل تھا۔اس نے آپ کی حالت سن کر یہ کہا۔یہ تو جبرائیل تھے جو حضرت موسیٰ اور دوسرے انبیاء کی طرف آیا کرتے ہیں اور کوئی خوف کی بات نہیں۔کاش میں اس وقت جوان ہوتا کہ جب آپ کی قوم آپ کو یہاں سے نکال دے گی تو میں آپ کی مدد کرتا۔آپ نے پوچھا۔کیا میری قوم مجھ کو نکال دے گی۔آیت نمبر 11 - إِذَا صَلَّی - یعنی ابو جہل مردود نے رسول اللہ کے گلے میں پٹکا ڈال کر نماز پڑھتے ہوئے کعبہ سے ہٹا دیا اور کہا کہ پھر کعبہ میں آیا تو گردن توڑ ڈالوں گا جس کا بدلہ بدر کی لڑائی میں واقعہ ہوا۔