اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1304
ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ ) ۱۳۰۴ العلق ٩٦۔پھر اس کو پھینک دیا نیچے سے نیچے (اس کی بداعمالی کے سبب سے )۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ے۔مگر وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو مانا اور بھلے کام کئے تو ان کے لئے بے انتہا اجر ہے۔فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنِ فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ اليْسَ اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَكِمِينَ۔(تو اے آدمی ) ان سب باتوں کے بعد دین میں تجھے کون جھوٹا سمجھے یا دین کی تکذیب پر کونسی چیز تجھے آمادہ کرتی ہے۔۹۔کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں۔سُوْرَةُ الْعَلَقِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ عِشْرُونَ ايَةً وَ رُكُوعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۂ علق کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس با عظمت اللہ کے نام پاک سے جو رحمن ورحیم ہے۔اقْرَأْ بِاسْمِ رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَةً ۲۔اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے ہر ایک خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُن الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِن عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُن ا عَلَق جما ہوا خون۔شے کو پیدا کیا۔۳۔انسان کو پیدا کیا جونک سےلی۔۴۔پڑھ اور تیرا رب بہت بزرگ ہے۔۵۔جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعہ سے۔۶۔سکھایا انسان کو جو وہ جانتا نہ تھا۔سے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تجھے مکرم ومعظم کرے گا۔تمهید۔یہ سب سے پہلی سورۃ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکے میں اتری اور اسی سے انجام کار کا پتہ لگتا ہے۔آیت نمبر ۵ - عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔اگر ضرورت آپڑتی تو آپ خدا کی قدرت سے لکھ سکتے لیکن اس کا وقوع مذکور نہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ لکھی ہوئی کتابوں سے علم بڑھتا ہے۔آیت نمبر 1 - مَا لَم يَعْلَمُ۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ وحی کی ابتدا اس طرح پر ہوئی کہ آنحضرت