اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1302 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1302

عم ٣٠ ۱۳۰۲ الم نشرح ٩٤ سُورَةُ اَلَمْ نَشْرَحْ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ تِسْعُ آيَاتٍ وَّ رُكُوعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ) ا۔ہم سورہ انشراح کو اس بابرکت اللہ کے اسم مبارک سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو رحمن و رحیم ہے۔۲۔کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا۔وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ ) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔اور اتار دیا تیرے اوپر سے تیرا بوجھ۔۴۔جس نے تیری کمر توڑ رکھی تھی۔۵۔اور تیرے ذکر کو بلند کیا۔ا نزول وحی یا مکہ سے نکلنے یا کفار کی شرارت یا قوم کی اصلاح کے غم نے جو بدترین خلایق بنا دیتے ہیں تجھ کو عالی حوصلہ بنا کر انشراح سے بدل دیا۔آیت نمبر ۲۔اَلَمْ نَشْرَخ۔ایک مقدمہ یا ایک بیماری یا عورتوں میں مشغول ہو تو آدمی کے دوسرے ہوش درست نہیں رہتے مگر آنحضرت کو گل دنیا سے جنگ ہے اور سب کی اصلاح کرنا ہے آپ ہی مقد مے فیصل فرماتے ہیں۔آپ ہی قیامِ عبادت فرماتے ہیں۔بیبیوں سے بھی سخت تعلق ہے۔لاکھوں کروڑوں کام ہیں اور آپ اکیلے ہی اپنی ذات سے کرتے ہیں اور دوسرے کو لَا تُقَدِّمُوا (الحجرات: ۲) کا حکم ہے اور بی بئیں بھی ایک نہیں دو نہیں نو ہیں اور پھر سب کام بھی کامل توجہ سے کرنے پڑتے ہیں اور انشراح اور خوشی سے انجام دیتے ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكُ وَسَلَّم آپ کا سینہ مبارک بھی دو بار فرشتوں نے چاک کر کے نورانی طشت میں آپ قدس سے دھویا تھا۔ایک بارلڑکپن میں اور دوسری بار معراج کے وقت۔اسی لئے موسیٰ نے بھی دعا کی تھی۔رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِى (طه: ۲۶ )۔یہ سب روحانی نظارے ہیں جو جسمانیات سے الگ ہیں۔موسیٰ کے لئے رَبِّ اشْرَحْ لِي اور حضور کے لئے اَلَمْ نَشْرَحْ قابل غور ہے درجہ کے لئے۔” ہیں تفاوت راه از کجا است تا یکجا “۔آیت نمبر ۵ - رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - دنیا والوں کی عادات کو دیکھو ناقوس بجاتے۔سنگھ بجاتے آگ سلگاتے وغیرہ وغیرہ۔مگر اونچے پر چڑھ کر اپنے دعوی کو اپنے دشمنوں کے سامنے بلند آواز سے اظہار کرنا اسلام ہی نے ایجاد کیا یعنی اذان۔