اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1299 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1299

۱۲۹۹ اليل ۹۲ وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولى فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَقَّى لَا يَصْلهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَى وَسَجَنَّبُهَا الْأَتْقَى الذي يُونِ مَالَهُ يَتَرفية ۱۴۔اور بے شک اوّل و آخر ہمارے ہی ہاتھ میں ہے۔۱۵۔تو میں نے تم کو ایک شعلہ زن آگ سے ڈرا دیا ہے۔۱۶۔اس میں کوئی داخل نہ ہو گا مگر وہی بد بخت۔۱۷۔جس نے جھٹلایا اور پیٹھ پھیر لی۔۱۸۔اور اس سے ہٹایا جائے گا بڑے متقی کو۔۱۹۔جو اپنا مال دیتا ہے تا کہ اپنے نفس کو پاک بنائے۔ے یعنی جب کوئی صدیق بننا چاہے تو ہم اسے ہدایت دے سکتے ہیں۔آیت نمبر ١٤ لَلآخِرَةَ وَالأولى - صدیق اکبر اور ابی ابن خلف کا حال ہے۔یہ دوسرا شخص ایک مالدار آدمی تھا۔بہت سے غلام رکھتا تھا مگر حد درجہ کا بخیل۔اس کا کوئی نوکر خیرات کر دیتا تو وہ بڑا خفا ہوتا کہ ہمیں آخرت سے کیا کام اور میرے پاس محمد کی جنت سے زیادہ سامان ہیں۔وہ کنگالوں کو لالچ دے کر معتقد بناتا ہے۔اس کے غلاموں میں حضرت بلال تھے۔جو خدا کے فضل سے مسلمان ہو گئے۔جب بلال کے اسلام کا حال اس ظالم کو معلوم ہوا تو اس نے اپنے غلاموں سے کہا کہ اس کے بدن میں کانٹے اور سوئیاں چھوڑ۔پھر عین دو پہر کے وقت مشکیں باندھ کر جلتے پتھروں پر ڈال دو اور رات کو گرم مکان میں بند کر دو اور کوڑے مارو۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا مگر حضرت بلال کے منہ سے اُحد اور اُحد کے سوا کچھ نہ نکلا۔ایک روز صدیق اکبر اوپر سے نکلے اور اس وحشیانہ کارروائی کا حال معلوم ہوا تو آپ نے اُس ظالم سے کہا کہ تو خدا سے نہیں ڈرتا۔تو اس نے کہا تم ڈرتے ہو تو اس کو خرید لو۔تو آپ نے فرمایا اچھا اور بلال کے عوض میں اس نے سلطان رومی کو جو آپ کا غلام تھا مانگا تو آپ نے دے دیا اور کچھ مال بھی دیا۔اسی طرح صدیق نے کئی لونڈی غلام خرید کے آزاد کر دیئے اور آپ کے پاس جو چالیس ہزار درہم تھے وہ تمام دینی خدمات میں خرچ کر دیئے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت بار ہا فرماتے تھے کہ ابوبکر کا مجھ پر بڑا احسان ہے۔یہاں تک کہ جب ابوبکر کے پاس کچھ مال نہ رہا تو آپ کمبل اوڑھ کر کانٹے کا تکمہ لگا کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت جبرائیل آئے اور اللہ کا سلام حضرت صدیق کو پہنچایا اور کہا خدا فرماتا ہے کہ اس حالت میں بھی تم مجھ سے راضی ہو یا کدورت آگئی ہے۔یہ سن کر صدیق اکبر پر ایک وجد کی حالت ہو گئی اور کہنے لگے مولیٰ سے کدورت کیسی اور بار بار فرمانے لگے آنَا عَنْ رَبِّي رَاضٍ ، أَنَا عَنْ رَبِّئُ رَاضِ -