اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1297
۱۲۹۷ القمس ۹۱ فَأَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْويهَا قَدَا فَلَحَ مَن زَكْهَان وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَان كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَعُوبَهَان إِذِ انْبَعَثَ أَشْقُهَان ۹۔اور پھر نفس انسان کے لئے ظلمت اور نورانیت اور ویرانی اور سرسبزی کی دونوں راہیں کھول دیں۔۱۰۔بے شک جس شخص نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور کلی اخلاق ذمیمہ سے دست بردار ہو گیا وہ مراد کو پہنچا۔ا۔اور جس نے اسے (بے جا خواہشوں کی ) خاک میں گاڑ دیا وہ نامراد رہا۔۱۲۔شمود نے اپنی سرکشی سے تکذیب کی۔۱۳۔جب اُن میں سے ایک بڑا بد بخت اٹھا۔فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ نَاقَةَ اللهِ ۱۴۔تو اُن کو اللہ کے رسول نے سنا دیا کہ اللہ کی وسفيها اونٹی کو ہاتھ نہ لگانا اور اس کا پانی نہ بند کرنا۔فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوْهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمُ ۱۵۔تو انہوں نے رسول کو جھٹلایا اور اونٹنی کی رَبُّهُمْ بِدَتِهِمْ فَونهان وَلَا يَخَافُ عُقْبُهَان کونچیں کاٹ ڈالیں۔تو ان کے رب نے ان پر ہلاکت بھیج دی ان کے گناہ کے سبب پھر برابر کر دیا وہ ملیا میٹ ہو گئے۔۱۶۔اور ان کے انجام اور بال بچوں کی بھی کچھ پروا نہ کی۔ل أَى اِحْذَرُوا مِنْ نَاقَةِ اللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا - ( یعنی اللہ کی اونٹنی سے ڈرو اور اسے شر پہنچانے سے باز رہو ) آیت نمبر 9 - فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُو تھا۔اور اس نفس شریف کو تقویٰ کا علم دیا۔الْقَدْرُ خَيْرُهُ مِنَ اللہ تعالی کا مطلب یہ ہے کہ بھلے بُرے کی انسان کو تمیز بتا دی اور جہاں تک اس کے اختیار کی ڈوری ڈھیلی کی گئی ہے وہاں تک وہ عمل کر سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔گو یا بھینس کھونٹے کے بل کود رہی ہے۔