اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1296 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1296

عم ٣٠ ١٢٩٦ الشمس ۹۱ جمیع کمالات متفرقہ عنایت کئے ! (اور کسی کمال سے محروم نہ رکھا بلکہ پہلے قسموں کے نیچے جتنے کمالات تھے وہ اس میں جمع کر دئیے )۔(بقیہ حاشیہ ) اپنے اندر رکھتا ہے یعنی روشنی دنیا اور چاند کے خواص بھی اس میں پائے جاتے ہیں کہ وہ اکتساب فیض دوسرے سے کر سکتا ہے اور پھر دوسروں کو پہنچا سکتا ہے۔جیسے محنت اور مزدوری کرنے والے لوگ دن کی روشنی میں اپنے کا روبار بخوبی کر سکتے ہیں۔ایسے ہی حق کے طالب انسانِ کامل کی روشنی یعنی اس کے نمونے پر چل کر مہمات دینیہ کو انجام دیتے ہیں۔اور ایک قسم سے اندھیری رات سے بھی کامل انسان کو مشابہت ہے۔یعنی انقطاع کی حالت میں بھی اپنے نفس کی ظلماتی خواہشوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے یعنی حقوق نفس کھانا۔پینا۔سونا۔بیوی بچے وغیرہ کے حقوق کی طرف التفات کرتا ہے تا کہ روحانی تعب سے کسی قدر آرام پا کر پھر مجاہدات شاقہ کے اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے اور دوسرے خاص دقیقہ بھی جن کو علم ہیئت و نجوم و طبعی کی باریک نظر نے دریافت کیا ہے۔وہ نفس انسانِ کامل ہوتے ہیں اسی طرح اس نفس کامل کو آسمان سے بھی مشابہت ہے۔مثلاً آسمان کس قدر وسیع ہے ایسا ہی ان کا نفس ناطقہ اپنے میں نہایت وسعت رکھتا ہے اور جیسے آسمان میں ستارے روشن ہیں ایسے ہی اس میں قوائے روشن ہیں۔اسی طرح نفس کامل کو زمین سے بھی مشابہت ہے یعنی جس طرح اعلیٰ درجہ کی زمین خوب قلبہ رانی اور آبپاشی اور تمام مراتب کشاوزری کے پورے کر دیئے جائیں تو وہ خوب پھل لاتی ہے، یہی حال کامل انسان کا ہے کہ احکام الہی کی محنت سے محبت کی تخم ریزی اس میں کی جائے تو عجیب سرسبزی کے ساتھ اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور وہ ایسے عجیب وغریب پھلدار ہوتے ہیں کہ سب دیکھنے والے سُبحَانَ الله ، سُبْحَانَ اللہ کہتے ہیں۔وَنَفْسٍ وَ مَا سَوتها سے صاف ظاہر ہے کہ نفس کامل ایک عالم ہے اور عالم کبیر کے تمام صفات وخواص اجمالی طور پر اپنے اندر رکھتا ہے اور قسموں کا سر جیسا کہ کئی وقت بیان کیا گیا ہے کہ قرآن شریف کی یہ ایک عام عادت ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات اور احقاق کے لئے ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے کہ جیسے خواص بدیہی ثبوت رکھتے ہیں اور نفس انسانی کے خواص ایسے چھپے ہوئے ہیں کہ اس کے وجود ہی میں صد ہا جھگڑے برپا ہیں۔سو اس سورہ مبارکہ میں نفس انسان کے لئے اس کے بے نہایت خواص فاضلہ کا ثبوت دینا چاہا تو وہ مختلف چیزوں کے خواص بیان کر دیہ کے پھر نفس انسان کی طرف اشارہ کر دیا کہ وہ ان تمام کمالات متفرقہ کا جامع ہے تو یہ کمال درجے کی نادانی ہوگی کہ ایسے عظیم الشان نفس کی طرف یہ وہم کیا جائے کہ وہ کچھ بھی چیز نہیں جو موت کے بعد باقی رہ سکے اور یہ محسوس و مشہور چیزیں جو فنا ہونے والی ہیں اور جن میں تغیرات لگے ہوئے ہیں۔باقی سمجھا جائے تفصیل کے لئے دیکھو تو ضیح مرام صفحہ ۵۰ تا آخر۔