اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1293 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1293

عم ٣٠ ۱۲۹۳ البلد ٩٠ سُوْرَةُ الْبَلَدِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ إِحْدَى وَعِشْرُونَ آيَةً وَّ رُكُوعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ بلد کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس بابرکت اللہ کے نام سے جس نے نیک بننے کے لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِن وَاَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِن وَوَالِهِ وَ مَا وَلَدَن لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍن لئے سب ضروری سامان مہیا کئے اور ان سے کام لینے والوں کو اب بھی نیک بدلہ دینے کے لئے تیار ہے۔۲۔اس شہر کی کیا قسم کھائیں۔۔حالانکہ تیرا قتل تو یہاں (بزعم کفار ) حلال ہو گیا ہے۔۔اور قسم ہے باپ اور اس کی اولاد کی۔۵۔ہمیں نے پیدا کیا آدمی کو محنت کشی میں۔ا يَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدُهُ ۶۔کیا اس کا یہ خیال ہے کہ اس پر کسی کا بس نہ چلے گا ؟ يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَا لَّا تُبَدان ے۔وہ کہتا ہے میں نے خرچ کر دیا مال أَيَحْسَبُ أَنْ لَّمْ يَرَةً أَحَدُن الَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْن ڈھیروں۔۔کیا اس کا یہ خیال ہے کہ اس کو کسی نے نگا کہ اسکو نے بنگا نہیں دیکھا؟ ۹۔کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں۔آیت نمبر ۳۔وَاَنْتَ حِل۔اس میں تو جانوروں پر بھی ظلم کرنا منع ہے۔ہائے افسوس! یہ تیرا قتل ضروری قرار دیتے ہیں۔آیت نمبر ۴۔وَ وَالِدِ وَ مَا وَلَدَ۔کوئی اپنے کو والد کوئی بچہ کہتے ہیں۔مگر نبی کریم ﷺ کے بچانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے۔آیت نمبر 9 - اَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ الخ - مکہ غیر ذی زرع مقام تھا۔اس کا بلد بن جانا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام والد حضرت اسمعیل ولد کے صدق وصواب کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔آنکھوں سے دیکھو