اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 6
هُمْ يُوقِنُونَ ) پیچھے آنے والی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔البقرة ٢ أوليكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ أُولَيكَ ٦ - یہی لوگ ہیں اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر۔اور یہی لوگ نہال اور با مراد ہیں۔هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ۔بے شک جن لوگوں نے حق کو چھپایا برابر ہے انْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ان پر کیا ڈرایا تو نے انہیں یا نہ ڈرایا تو نے انہیں وہ نہ مانیں گے (کبھی)۔(بقیہ حاشیہ ) والے اولیاء مقدسین کے الہام اور وحی مابعد رسول کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فیض بعد سید المرسلین کے قطعا بند ہو گیا حالانکہ دینی و دنیوی کل قومی علی حاله غالب و شایق بمد عائے خود ہیں تو کس طرح محبوب کی باتوں سے دل سیری اور عدم ضرورت ہو ؟ ہاں اتنا ہم بھی مانتے ہیں کہ اب براہ سید المرسلین، خاتم النبین ،سرتاج اولین والآخرین کے در مبارک کے بغیر کوئی اس مقام میں جانہیں سکتا۔آپ کی اتباع میں سب کچھ مل سکتا ہے۔یہ نہیں کہ حضور کے کمال نے بھی مشتاقوں کو ترستا چھوڑ ا۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ فِي كُلِّ وَقْتٍ وَحِيْنِ وَ صَلِّ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ وَعَلَى مَلَائِكَتِكَ الْمُقَرَّبِينَ وَعَلَى عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ وَعَلَى أَهْلِ طَاعَتِكَ أَجْمَعِينَ وَارْحَمْنَا مَعَهُمُ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ - - اولین کے فیض تو سب رک گئے ایک ہے دریا یہی جو ہے سدا اس لئے ارشاد ہوا۔وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اور وہ پچھلی آنے والی پر بھی یقین رکھتے ہیں جو فیض محمدی سے مالا مال ہیں سلسلہ کلام نزول وحی میں ہے۔مطلب یہ ہوا کہ وہ پہلی وحیوں اور الہاموں پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو خاتم النبیین پر اتری اس پر بھی اور جو اس کے کامل متبعین و خداموں پر آئی اور تا قیام قیامت آتی رہے گی۔اُس پر بھی یقین رکھتے ہیں اور وہ غیر مقلد یا وہابی یا بر ہمود آریہ نہیں ہیں۔آیت نمبر 1 - وَ أُولَيْكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ متقی کی ابتدا تین باتوں سے شروع ہوتی ہے۔(۱) ایمان بالغیب رکھنا۔(۲) نماز و عبادت میں دعا کا قائل و عامل ہونا۔(۳) کچھ نہ کچھ خدا کی راہ میں دینا۔دوسرا مرتبہ متقی کی ترقی کا ہے۔اب اور گزشتہ و بعد کی وحی اور الہام پر ایمان لانا اور مظفر ومنصور ہونا۔یہ پہلی جماعت منعم علیہ کا حال ہے۔