اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1286
عم ٣٠ ۱۲۸۶ الا على ٨٧ سُوْرَةُ الْاَعْلَى مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ عِشْرُونَ آيَةً وَّ رُكُوعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ اعلیٰ کو اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے پڑھنا شروع کرتے ہیں۔سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) ۲۔اپنے عالی شان رب کا پاکی سے نام لیا کر۔الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَى فَجَعَلَهُ غُتَاءَ أَحْوَى ن سنقرئك فلا تنسى۔جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک ٹھاک کر دیا۔۴۔اور جس نے اندازہ کیا پھر راستہ دکھا دیا۔۵۔اور جس نے تازہ گھاس نکالا۔۶۔پھر اس کو کوڑا کرکٹ بنادیا۔ے۔ہم ضرور ہی تجھ کو قریب ہی ایسا پڑھائیں ط گے کہ تو پھر بھولے گا ہی نہیں۔إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ۔مگر جو اللہ چاہے بے شک وہ ظاہر بھی جانتا وَمَا يَخْفى وَنُيَسِرُكَ لِلْيُسْرَى ہے اور چھپا ہوا بھی۔۹۔اور تجھ پر آرام کا راستہ آسان کر دیں گے۔آیت نمبر ۲ - سبح اسم۔اللہ کے اسماء وافعال و ماموروں و کلامِ الہی پر جو اعتراض وارد ہوں ان کا جواب دینا تسبیح ہے۔آیت نمبر ۸۔مَا شَاء الله۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اللہ نے کوئی آیت بھلا دی یا کوئی آیت شریف منسوخ ہے۔ایسی اور بھی آیتیں آتی ہیں جیسے لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِی اَوْحَيْنَا إِلَيْكَ (بنی اسرائیل: ۸۷) کیونکہ کبھی ایسا وقوع میں نہیں آیا ہاں ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شیطانی القاء کو ہم منسوخ کر دیتے ہیں جیسا که فرمایا : فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ (الحج: ۵۳) اور دوسری جگہ وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ (الشوری : ۲۵) آیا ہے۔بعض غلط فہم مفسرین نے لکھ مارا ہے کہ حضرت بعض آیات بھول گئے تھے اور یہ خیال اخبار احاد غیر صحیحہ اور غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوا۔