اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1276
فِي أَيْ صُوْرَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحْفِظِينَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفَجَّارَ لَفِي جَحِيْمِن يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّينِ وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَابِبِينَ وَمَا أَدْرِيكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ الانفطار ٨٢ و۔جس صورت میں چاہا تجھے تجویز کیا۔۱۰۔نہیں جی ! مگر تم تو دین کو جھٹلاتے ہی ہو۔ا۔حالانکہ بے شک بے شک تم پر محافظ ہیں (یعنی)۔۱۲۔بزرگ لکھنے والے۔۱۳۔وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔۱۴۔بے شک نیک لوگ سکھوں اور آرام میں ہیں۔۱۵۔اور تحقیق بدکار جہنم میں ہیں۔۱۶۔اس میں داخل ہوں گے جزا کے دن۔۱۷۔وہ اس سے کبھی غائب نہ ہوں گے۔۱۸۔تو نے کیا سمجھا کہ وہ انصاف کا دن کیا ہے۔ثُمَّ مَا أَدْرُكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ۱۹۔پھر تو نے کیا سمجھا کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا ۲۰۔جس دن کوئی جی کسی جی کے کچھ کام نہ آئے وَالْأَمْرُ يَوْمَيذٍ لِلهِ ن گا۔اور اس دن اللہ ہی اللہ کا حکم ہے۔آیت نمبر ۱۲۔كِرَامًا كَاتِبِینَ۔نامہ اعمال کے لکھتے جانے اور اس کے محفوظ رہنے پر۔جن کو عقلی بعد معلوم ہوتا ہے وہ آجکل کے گراموفون ہی کو دیکھ لیں کہ کس طرح ریکارڈ اس میں محفوظ رہتا ہے اور دوبارہ چکر دینے سے کس طرح ذرا ذرا بھی یہاں تک کہ کھانسی اور تنفس کی کمی زیادتی بھی اس سے ظاہر ہونے لگتی ہے۔آواز آرہی ہے یہ فونوگراف ނ ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے از حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام )