اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1275
عم ٣٠ ۱۲۷۵ الانفطار ٨٢ سُوْرَةُ الاِنْفِطَارِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ عِشْرُونَ آيَةً وَّ رُكُوعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ انفطار کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔۲۔جب آسمان پھٹ جائے۔إِذَا السَّمَاءِ انْفَطَرَتْ وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ فُجَّرَتْ وَإِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ ۳۔اور ستارے جھڑ جائیں۔۴۔اور جب دریا بہا دیے جائیں۔۵۔اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں۔عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَرَتْ ۶۔تو ہر ایک جان لے گا کیا کچھ اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا ہے۔يَأَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبَّكَ ے۔اے انسان! کس چیز نے تجھ کو مغرور کر دیا تیرے رب کریم پر۔الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّنَكَ فَعَدَلَكَ۔جس نے تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک ٹھاک بنایا پھر معتدل بنایا۔(بقیہ حاشیہ) جیسے سورہ بقرۃ میں فرمایا وَ مَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ الله (البقرة: ۲۷۳) جس سے مقصد یہی ہے کہ اپنے اتفاق کو ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله کے تابع کرو۔اس سے جبر لازم نہیں آتا۔آیت نمبر ۵ - وَإِذَا الْقُبُورُ بُعثِرَت۔آج کل بھی قبروں سے مُردے نکال کر دوسری جگہ گاڑے جاتے ہیں۔کیا تعجب ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر بھی محلہ خان یارسری نگر کشمیر سے تحقیق کے لئے اکھیڑی جائے اور پھر مع حواریوں کی قبروں کے تبر کا یوروپ میں لے جاویں۔اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ وَحُصِلَ مَا فِي الصُّدُورِ ( العديت : ۱۱،۱۰) سے بھی کچھ اشارات ملتے ہیں۔آیت نمبر۔مَا غَرَّكَ بِرَبَّكَ الْكَرِيمِ - کریم کے کرم سے نا امید بھی نہ ہو اور صرف کرم ہی کی امید پر دھوکا نہ کھا بیٹھے۔دوسری جگہ فرمایا نَبِی عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ (الحجر:۵۱،۵۰) -