اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1274
۱۲۷۴ التكوير ٨١ اله لَقَولُ رَسُولٍ كَريمة ۲۰۔بے شک یہ صاحب عزت رسول کا کلام ہے۔ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ ۲۱۔جو قوت دار ہے۔عرش عظیم کے مالک کے قُطَاعِ ثُمَّ آمِيْنٍ وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ نزدیک بڑا درجہ پایا ہوا ہے۔۲۲۔اطاعت کیا گیا اللہ کے پاس بڑا امانت دار ہے۔۲۳۔اور تمہارا صاحب کچھ بھی دیوانہ نہیں ہے۔وَلَقَدْ رَاهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِيْنِ ® ۲۴۔اور تحقیق کہ اس نے اپنے آپ کو دیکھ بھی لیا ہے کھلے کناروں پر آسمان کے بڑھ چڑھ کر۔وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَنٍ رَّحِيْم فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ ) لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ ۲۵۔وہ تو غیب کی بات بتانے پر بخل کرنے والا نہیں ہے۔۲۶۔اور نہ وہ شیطان مردود کی بات پر چلنے والا ہے بلکہ کلام الہی پر۔۲۷۔پھر تم کہاں چلے جارہے ہو۔۲۸۔یہ قرآن شریف تو ایک پنداور یادگارا ہے سب جہانوں کے واسطے۔۲۹۔(اور خاص کر ) اس کے لئے جو تم میں سے راہ راست پر قائم ہونا چاہے۔وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ ۳۰۔اور اس حال میں کہ نہ چاہنے والے ہو تم مگر رَبُّ الْعَلَمِينَ وہی جو خدا چاہتا ہے۔لے عموماً سب سے اور خصوصاً صحابہ سے مخاطب ہے۔آیت نمبر ۲۰ - لَقَوْلُ رَسُوْلِ كَرِيمٍ - آیت ۲۰ - ۲۱ - ۱۲۳،۲۲ إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيمٍ اس قدر کلام ذوالمعارف بیان فرمانے کے بعد رسول اللہ اللہ کی طرف سے جنون کے الزام کو دفع کیا اور اسی دنیا میں آپ کا مکرم ذِى قُوَّةٍ مَتِین اور مطاع ہو جانا بھی بیان فرمایا ہے۔یہ مفتیں جبرائیل کی بھی ہیں۔اس صورت میں قول کے معنے قراءت جبرائیل کے ہیں۔آیت نمبر ۳۰۔وَمَا تَشَاءُون۔یعنی سیدھا وہی ہو سکتا ہے جو اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے تابع کرے