اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1273
وَإِذَا الْجَنَّةُ أَزْ لِفَتْ ۱۲۷۳ التكوير ٨١ ۱۴۔اور جب بہشت قریب لائی جائے۔عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ ۱۵۔اس وقت ہر ایک شخص جان لے گا جو کچھ فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَن وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ) لے کر آیا ہے۔۱۶۔تو میں قسم کھاتا ہوں دن میں چھپنے والے پیچھے ہٹنے والے تاروں کی۔۱۷۔اور اپنی جگہ نظر آنے والے، سیدھے چلنے والے ، آگے چلنے والوں، ڈوب جانے والے تاروں کی۔۱۸۔اور اس رات کی جب وہ جاتی ہے۔۱۹۔اور صبح کی جب وہ سانس لے۔لے یعنی سامان آرام ہو مخلص کیلئے۔ے نیک اور بد ہر ایک کو خبر ہو جائے گی یعنی علوم عام ہو جائیں گے۔آیت نمبر ۱۶-۱۷ - فَلَا اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الكُنَّسں۔یہ کلام بھی کلام ذو المعارف کے طور پر ہے۔منجملہ اس کے یہ ہے کہ قسمیہ طور پر فرمایا کہ کفر اب تین طرح سے ٹوٹے گا۔اوّل ترقی کفر کی تھم جائے گی۔دب جائے گی۔پسپا ہو جائے گی۔دوم کچھ لوگ رو براہ ہو کر اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔باقی رہے سہے پر جھاڑو پھیر دی جائے گی۔آسمانی بلاؤں سے ، زمینی بلاؤں سے ، جنگوں سے کفر کا صفایا ہو جائے گا۔یہی اس کے لئے تکنس ہے۔سورج کی روشنی سے ستاروں کا ماند پڑ جانا بھی خُنَّس ہے اور خُنَّس دجال کے گروہ کو بھی کہتے ہیں۔آیت نمبر ١٨ - وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ عَسْعَسَ اضداد سے ہے جس کے معنے آنے اور جانے کے ہیں یعنی کفر گیا اور اس کی جگہ اسلام نے لے لی۔عَسْعَسَ کے لفظ سے زمین کا گول ہونا بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک نور سے ظلمت روشنی پر چڑھی چلی آتی ہے تو ساتھ ہی دوسری طرف سے پیچھے سے روشنی ظلمت پر سوار ہو رہی ہے اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک کہ زمین گول نہ مانی جاوے تِلكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (ال عمران :۱۴۱) کے معنے بھی تیل کے تَعَسُعُس اور صبح کے تنفس کے قریب قریب ہیں یا عَسْعَسَ کے لفظ سے زمین کا گول ہونا یوں سمجھ لیجئے کہ جب رات ہماری طرف سے گئی اور ہم پر دن آیا تو زمین کے دوسری طرف والوں پر رات آئی۔اسی طرح سے اس کے بالعکس عَسْعَسَ جاتی ہے آتی ہے۔یہاں پر فقط جاتی ہے۔