اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1270
ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهُ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَاقْبَرَهُ ) ثُمَّ إِذَا شَاءَ انْشَرَهُ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَى طَعَامِةٍ انَّا صَبَيْنَا الْمَاءَ صَبَّان ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّان فَانْبَتْنَا فِيهَا حَبَّان وَعِنَبا وَقَضْبان ۱۲۷۰ عبس ۸۰ ۲۱۔پھر اصل راستہ اُس کے لئے آسان کر دیا۔۲۲۔پھر اُس کو اللہ نے مارا اور اُسی نے اس کو گاڑا۔۲۳۔پھر جب اسے چاہے گا اٹھائے گا۔۲۴۔نہیں نہیں ابھی آدمی نے پورا یقین نہیں کیا عمل میں نہیں لایا جو کچھ اللہ نے اسے فرمایا۔۲۵۔تو انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے ہی کی طرف دیکھے۔۲۶۔کہ ہم نے ایک دستور سے پانی برسایا۔۲۷۔پھر ایک قاعدے سے زمین کو پھاڑا۔۲۸۔پھر ہمیں نے اس میں اناج اگایا۔۲۹۔اور انگور اور سیب تر کاری۔وَزَيْتُوْنًا وَنَخْلان ۳۰۔اور زیتون اور کھجوریں۔وَحَدَابِقَ غُلْبَان ۳۱۔اور گھنے گھنے باغ۔وَفَاكِهَةً وَايَّان ۳۲۔اور میوے اور گھاس۔مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْن ۳۳۔پیدا کی تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدوں کے لئے۔آیت نمبر ۲۲۔فَأَقْبَرَہ۔معلوم ہوا کہ قبر اس مکان کا نام ہے جہاں سعادت مند اور بدبختوں شقیوں کو بھیجتا ہے۔وہ نہیں جہاں لوگ گاڑے جاتے ہیں۔قبر عالم برزخ کا نام ہے خواہ دریا میں ڈوبے یا شیر کھائے یا کوئی جل جائے اور راکھ ہو جائے۔آیت نمبر ۳۳ - مَتَاعًا لَكُمْ۔یعنی جب ہم اس قسم سے بے نمونہ چیز میں ہمیشہ بناتے رہے تو اب بعد مرنے کے تمہارا پیدا کر دینا کیا مشکل کام ہے۔