اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1269
فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهي كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ ® فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفِ مُكَرَّمَةِ مرفوعة مُطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامِ بَرَرَةٍ قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا اكْفَرَهُ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ قُ مِنْ نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ے تیری خوش اخلاقی اور نیک اعمال کا۔وقف لازم ا۔تو کیا تو اس سے ہٹ سکتا تھا۔عيس ٨٠ ۱۲۔نہیں نہیں یہ قرآن تو ایک پند اور یادگارا ہے!۔۱۳۔تو جس کا جی چاہے اسے یاد کر لے۔۱۴۔یہ قرآن شریف بزرگ صحیفوں میں ، معزز اوراق میں ہے۔۱۵۔جو اونچی جگہ رکھے ہوئے پاک ہیں۔۱۶۔ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں سے (لکھا گیا ہے)۔۱۷۔جو عالی حوصلہ نیکوکار ہیں۔۱۸۔انسان مارا جائے۔ملعون کس بلا کا ناشکرا ہے۔۱۹۔اللہ نے اس کو کس چیز سے پیدا کیا ہے۔۲۰۔اس کو ذرا سے حقیر پانی سے پیدا کیا پھر اس کا ایک اندازہ باندھ دیا۔یعنی تیرا سچا متبع ہے۔آیت نمبر ۱۲۔تَذْكِرَةٌ۔اس میں تغیرات عظیمہ کی خبر دی ہے۔اول چھوٹی چھوٹی باتیں بیان کیں پھر قیامت کی خبر دی۔انسان کی پیدائش گھاٹے کی طرف متوجہ ہے۔آیت نمبر ۱۴۔صُحُفِ مُكَرَّمَةٍ۔یعنی انگلی بزرگ کتابوں میں اس کا مذکور ہے۔دوسری یہ کتاب معظم ہے۔تیسری یہ کہ پاک لوگوں کی فطرتوں میں منقوش اور محفوظ ہے اور یہی تعلیم تمام کتابوں کا خلاصہ ہے۔ایک یہ معنے کہ کاغذوں میں اس کی صورت لکھی جاتی ہے جن کی عزت کی جاتی ہے۔اونچی اونچی رکھی جاتی ہے۔آیت نمبر ۱۹- مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ - صوفی چه خوش گفت ( انسان کی ہستی ہی کیا ہے )۔بہ قطرہ آبے موجود و به خروج مادے معدوم۔خاسکے بیخته و آبیکے برو ریخته روز چند آخر با خداوند۔اعلائے کلمتہ اللہ کنید و اشفاق بر خلق اللہ۔اگر در خانه کسی است حرفے بس است۔اللہ بس باقی ہوں۔اما آیت نمبر ۲۰ - مِنْ نُّطْفَةٍ۔جیسے نطفہ سے آدمی بنتا جاتا ہے اسی طرح وجود بعد مرگ سے ایک وجود بنتا ہے۔