اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1268
عم ٣٠ ۱۲۶۸ عبس ۸۰ سُوْرَةُ عَبَسَ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ ثَلاتٌ وَّ اَرْبَعُونَ آيَةً وَّ رُكُوعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ عبس کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس عَبَسَ وَتَوَلَّىن أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرُى أَمَّا مَنِ اسْتَغْنى فَأَنْتَ لَهُ تَصَلَّى قُ وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَى اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔۲۔تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔۔اس وجہ سے کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا ( نیلی سیکھنے کو )۔۴۔تجھ کو کیا معلوم کہ پاک ہو جاتا۔۵۔یا سمجھتا ہے اور نصیحت اُس کو نفع دیتی ہے۔۶۔لیکن جو لا پروائی کرے۔ے۔تو کیا تو اس کے پیچھے پڑتا ہے ( یعنی کافر دولت مند کے )۔۔اور تجھ پر تو اس کا کچھ الزام نہیں کہ وہ بے پروا پاک نہ ہو۔وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَى وَهُوَ يَخْشُى ۹۔اور جو تیرے پاس دوڑتا ہوا آیا۔۱۰۔اور وہ ڈرتا بھی ہے۔آیت نمبر ۲۔ماہرین تفسیر شانِ نزول کو مخصوص الواقعہ خاص نہیں کرتے بلکہ جہاں تک ہو سکے عموم واقعہ لیتے ہیں۔یہاں مجمع قریش میں حضور کی تشریف فرمائی و تبلیغ کا واقعہ مشہور ہے۔جہاں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا دوڑتے چلے آئے تھے اور نابینا ہونے کی وجہ سے آداب رسالت کا خیال نہ رکھ سکے مگر خلوص قلبی نے انہیں مقبول و محبوب بنا دیا اور محبوب کو معتوب۔اس سے مبلغین کو پند دی کہ امراء کی پرواہ مقابلہ میں غربا وضعفاء کے کم کریں اور جو بڑے آدمی دلچسپی سے نہ سنیں ان کو صرف کہہ دینا چاہئے ( دوسرا ترجمہ وہ ہے جو متن میں کیا گیا ) بعض آدمی نیک ہوتے ہیں مگر اُن کے اندر کبریائی ہوتی ہے بہت احتیاط چاہئے نبی کریم امراء ملکہ کو سمجھا رہے تھے۔ایک اندھا آ گیا۔اللہ نے اندھے کی سفارش فرمائی اور عبوسیت اور توتی کو نابینا دیکھ نہیں سکتا۔اس سے اس کو رنج بھی نہیں ہو سکتا۔کفار اسے دیکھ سکتے ہیں ان کی خاطر داری بھی ہو جاتی ہے۔