اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1264 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1264

وَالنَّشِطَتِ نَشْطَان و السَّبِحَتِ سَبْعان فَالشبقتِ سَبْقَان فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْران يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ) تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ة ۱۲۶۴ ۳۔النزعت ۷۹۔اور قسم ہے ان کی جب وہ بخوشی تمام کام ۴۔اور قسم ہے بے روک تیرنے والوں کی۔۵۔پھر حوصلہ سے آگے بڑھنے والوں کی لپک کر۔۔پھر قسم ہے تدبیر کرنے والوں کی حکم سے۔ے۔جس دن لرزنے والی لرزے گی۔۔ایک زلزلہ کے پیچھے دوسرا زلزلہ ہے۔(بقیہ حاشیہ) سے۔مُدَبِّرَات - افسرانِ محکمہ جات اور فنون کے موجد و ماہر مطلب وغرض یہ ہے کہ کمال حاصل کرنے کے پانچ شرائط ہیں (۱) غور و تدبر میں غرق ہو جانا (۲) بڑی دلچپسی و خوشی (۳) غبطہ ہو (۴) موانعات کو دور کرے (۵) گسپ کمال کن کہ عزیز جہاں شوی۔اس لئے ارشاد ہوتا ہے۔قسم ہے غرق ہو کر نکالنے والوں کی۔مثلاً مجاہدہ کرنے والے۔محنت کش ، دین و دنیا کے کام میں غرق ہو کر کوشش کرنے والے کی اور ناشطات۔مثلاً جو محنت اور مشقت کے درجوں سے نکل کر ذوق اور شوق کی حالت کو پہنچ گئے وہ دینی حالات میں ہوں یا دنیوی۔اور سابحات جو اپنے کام میں مشاق اور رواں ہو چکے ہیں۔صوفیوں میں اس کا نام طیر ان اور عروج ہے سیر احوال ومفات اور سابقات اہل اللہ کے نزدیک اس کا نام ہے۔دنیوی امتحانات اور کاموں میں یہ بھی مقابلہ ہوا کرتا ہے اور مُدَبِّرَات صوفیوں کی اصطلاح میں اس کا نام نزول و رجوع دعوت الی الحق ہے۔دنیوی حیثیت سے وزراء امراء منتظم ہیں جو اس میں شامل ہیں۔یہ درجے ایک دوسرے کے بعد حاصل ہوتے ہیں۔یہ دلائل ہیں کہ اعمال کی جزا و سزا ضرور ہے۔کوئی حالت مستقل نہیں۔انسان مختلف منزلیں طے کرتا ہوا موت کا شکار ہو جاتا ہے۔اسی طرح کل عالم کی موت کا حال ہے جو آئندہ حشر و نشر پر دلالت کرتی ہے۔آیت نمبر 4۔فَالْمُدَ بِراتِ امرا۔مَلائِكَةُ الله کی خدمات بھی اس آیت سے سمجھی گئی ہیں جس سے جماعت انسانی بھی بڑا فائدہ حاصل کر سکتی ہے اور ساتھ ہی مسئلہ جزاء کو جو مقصود بالذات ہے ثابت کر رہی ہیں کہ نتائج اعمال حق ہیں کوششوں کے پھل ضرور ملیں گے کیونکہ الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ واقع ہے اور مؤکد بقسم بیان فرمایا ہے جو واقعات شدنی کے لئے بطور شاہد کے ہے اور آنے والے یوم کے اشراط عِظَام مُبَادِی و مقدمات یوں بیان فرمائے ہیں کہ يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ - آیت نمبر ۸ - تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ۔جیسا کہ آجکل ۱۹۰۵ء سے زلزلے دیکھ رہے ہیں۔سب سے بڑا خطرناک زلزلہ کانگڑہ کا ہوا۔