اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 120 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 120

تلك الرسل ٣ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِينَ ۱۲۰ ال عمران ۳ اتارے ہوئے پر اور ہم نے رسول کی پیروی کی تو تو ہمیں حاضر ان حضور میں لکھ رکھ۔وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ ۵۵ - انہوں نے عیسی کے مقابلہ میں تدبیریں کیں الْمُكِرِينَ بی بی اور اللہ نے (اُس کی نجات کے لئے ) اور اللہ کی الثلثة تدبیریں خیر و برکت سے بھری ہوئی ہیں۔إذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى اِنّى مُتَوَفِّيكَ ۵۶ - اور جس وقت فرمایا اللہ نے اے عیسی ! میں تجھے وفات دینے والا ہوں تیری روح قبض وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ کرنے والا ہوں پھر تجھے اپنی طرف اٹھانے والا آیت نمبر ۵۶ - مُتَوَفِّيكَ - مُمِيتُكَ ابن عباس بخاری کتاب التفسير ، تفسير سورة المائدة - جب لفظ تَوَفَّى بَابِ تَفَعُل سے ہو اور اللہ تعالیٰ اس کا فاعل ہو انسان اس کا مفعول ہو تو سوائے قبض روح کے اس کے کوئی اور معنی نہیں۔قرآن و احادیث و آثار و اشعار کسی میں اس کے خلاف نہیں پایا جا تا۔علاوہ بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فعل توفی کے متعلق قرآن کریم میں یہ خود فر مایا ہے کہ یہ فعل یعنی قبض روح یا تو عِندَ النَّوم ہوتا ہے یا عِندَ المَوت ہوتا ہے۔اس کے سوا کوئی توفی نہیں دیکھو پارہ ۱۴ رکوع ۵۔اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ الخ (الزمر: ۴۳)۔یہ آیت یہود، آریوں ، دہر یوں سب پر حجت ہے کیونکہ اس میں وہ زبر دست پیش گوئی ہے جس کا ظہور سالہا سال سے اظہر من الشمس ہو رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح کے متبع اس کے منکروں پر قیامت تک غالب رہیں گے اس سے حضرت مسیح علیہ السلام کی سچائی بعد وید نبیوں کا وجود، ہستی باری سب ثابت ہیں۔کسی نے کہا کہ صیغہ متوفی آئندہ پر دلالت کرتا ہے جو کبھی ہوگا؟ جواب دیا گیا آئندہ ہونے والی بات بعد الوقوع آئندہ نہیں رہتی کسی نے کہا کہ تقدیم و تاخیر ہے۔جواب دیا گیا بلا ضرورت صحیحہ خلاف منشاء الى نص قرآنی کو الٹ پلٹ کرنا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِاء (النِّسَاءِ :۴۷) کے مورد بننا ہے اپنے دل سے جب تک کہ مبحوث عنه کی بعینہ نظیر دوسری آیت میں نہ ہو۔قاعدہ بتا نا یا بے قاعدہ قاعدہ جاری کرنا ڈاب تقویٰ کے خلاف ہے۔ہمارے سردار دو جہان نے کسی سوال کے جواب میں فرمایا کہ وہیں سے شروع کرو جہاں سے اللہ نے شروع فرمایا اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ الخ (البقرة: ۱۵۹) -