اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1260 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1260

النبا٧٨ وَخَلَقْنَكُمْ أَزْوَاجًان ۹۔اور ہمیں نے تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا رنگ برنگ کے۔وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًان ۱۰۔اور تمہاری نیند کو آرام کا موجب بنایا۔وَجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسَان وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشَانٌ ا۔اور بنایا رات کو ایک پردہ۔۱۲۔اور دن کو روزی کمانے کا وقت۔(بقیہ حاشیہ ) وہ آتشیں مادہ اوپر سے بتدریج سرد ہو کر ایک سیال چیز بن گیا جس کی طرف قرآن شریف ان لفظوں میں ارشاد فرماتا ہے۔گانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ (هود: (۸) پھر وہ سیال مادہ زیادہ سرد ہو کر اوپر سے سخت اور منجمد ہوتا گیا۔اب بھی اس کے عمق کو جس قدر غور سے دیکھتے جاویں اس کا بالائی حصہ سرد اور نیچے کا گرم ہے۔کوئلوں اور کانوں کے کھودنے والوں نے اپنی تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا ہے۔گو اس نتیجہ میں فلاسفروں کو اختلاف ہے کہ ۳۶ میل سے نیچے عمق میں اب تک ایک ذومانی اور ناری مادہ موجود ہے۔جس کی گرمی تصور سے بالا ہے۔(اسلام نے بھی دوزخ کو نیچے بتایا ہے ) جب زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی نہ تھی اس وقت زمین کے اس آتشیں سمندر کی موجوں کا کوئی مانع نہ تھا اور اس لئے کہ اس وقت حرارت زیادہ تھی اور حرارت حرکت کا موجب ہوا کرتی ہے۔زمین کی اندرونی موجوں سے بڑے بڑے مواد نکلے۔جن سے پہاڑوں کے سلسلے پیدا ہو گئے۔آخر جب زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی ہوگئی اور اس کے ثبات و ثقل نے اس آتشیں سمندر کی موجوں کو دبا لیا تب وہ زمین حیوانات کی بود و باش کے قابل ہوگئی اسی واسطے قرآن کریم نے فرمایا ہے۔القى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ (النحل: ١٢) - القى کا لفظ جو آیا ہے اس کے معنے ” پیدا کئے ہیں کیونکہ اور جگہ قرآن میں جعَل کا لفظ بھی آتا ہے وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا (حم السجدة (1) اور زمین پر پہاڑ بنائے اور اس میں برکت رکھی الخ۔ایک عجیب نکتہ قابلِ سماعت اس آیت شریف میں ہے کہ وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ (النمل: ۸۹) اور تو پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرتا ہے کہ وہ مضبوط جسے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادل کی طرح اڑ رہے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری قابل دید و لائق شنید ہے جس نے ہر شے کو خوب مضبوط بنایا۔غور کرو کہ ارشاد فرمایا پہاڑ تمہاری نظروں کے سامنے ایک جگہ جمے ہوئے نظر آتے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح سیّار ہیں۔اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ زمین کے ساتھ پہاڑ حرکت کرتے ہیں۔فَتَدَبَّرُ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ -