اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1259
عم ٣٠ ۱۲۵۹ النا٧٨ سُوْرَةُ النَّبَا مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ إِحْدَى وَ أَرْبَعُونَ آيَةً وَّ رُكُوعَانِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ نبا کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس عَمَّ يَتَسَاءَلُوْنَ عَنِ النَّبَا الْعَظِيمِة الَّذِي هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُونَ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ) ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ ) الجزء ٣٠ اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔۔کس چیز کا حال یہ کا فرآ پس میں پوچھ رہے ہیں؟ ۳۔( کیا ) اس بڑی خبر کا۔۴۔جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔۵۔نہیں نہیں! حقیقت یہ ہے کہ وہ قریب ہی جان لیں گے۔۔پھر ہم کہتے ہیں ) ضرور ضرور وہ قریب ہی جان لیں گے!! اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهْدًان وَالْجِبَالَ أَوْتَادًان ے۔کیا ہم نے زمین کو گہوارہ نہیں بنایا؟۔اور پہاڑوں کو میخیں؟ آیت نمبر ۳ - النَّبَا الْعَظیمِ۔ہو سکتا ہے کہ نباء عظیم سے قرآن مجید اور پیغمبر ﷺ کی رسالت کا دعویٰ بھی مراد ہو۔آیت نمبر ۴۔مُخْتَلِفُونَ۔یہود و نصاری و مشرکین یعنی سب ہی قیامت کے متعلق اختلاف رکھتے تھے۔آج کل بھی ایک قوم تناسخ کو مانتی ہے ایسا ہی رسالت و نبوت و قرآن کی نسبت اختلاف تھے اور ہیں اور رہیں گے۔آیت نمبر ۸ - وَ الْجِبَالَ اَوْ تَادًا۔ایک نہایت سچی فلسفی ہے اور اس کچی فلسفی پر جدیدہ علوم اور حال کے مشاہدات گواہی دیتے ہیں اور انہی مشاہدات سے ہی ہم گزشتہ دیرینہ حوادثات کا علم حاصل کر سکتے ہیں۔طبقات الارض کی تحقیقات اور مشاہدات سے اچھی طرح ثابت ہو سکتا ہے کہ اس زمین کا ثبات وقرار اضطرابات اور زلازل سے خَالِقُ السَّمَوَاتِ وَالأَرض نے تکوین جبال اور خلق کو کو ہسار ہی سے فرمایا ہے اور زمین کے لرزہ کو تب اس علیم و قدیر نے تکوین جبال سے تسکین دی۔چنانچہ علم طبقات الارض میں تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ زمین ابتداء میں ایک آتشیں گیس تھا جس کی بالائی سطح پر دھواں اور دخان تھا اور اس امر کی تصدیق قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے۔جہاں فرمایا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانُ (حم السجدة :۱۲)۔پھر