اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1253
تبرك الذي ٢٩ ۱۲۵۳ المرسلت ٧٧ سُوْرَةُ الْمُرْسَلَاتِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ إِحْدَى وَ خَمْسُونَ آيَةً وَّ رُكُوعَان بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔سورۃ مرسلات کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو تمام اسبابوں کو مہیا کرنے والا اور نیکو کاری اور بدکاری کا بدلہ دینے والا ہے۔وَالْمُرْسَلَتِ عُرفان ۲۔ان ہواؤں کی قسم ! جو نرم چلائی جاتی ہیں۔فَالْعُصِفْتِ عَصْفَان والنُّشِراتِ نَشْرَاة فَالْفَرِقْتِ فَرْقًان فَالْمُلْقِيتِ ذِكْرًان ۳۔پھر جھونکے دینے والیوں کی زور سے۔۴۔اور منتشر کرنے والیوں کی اٹھا کر۔۵۔پھر جدا ٹکڑے ٹکڑے کر کر۔۶۔پھر نصیحت ڈالنے والیوں کی۔عُدْرًا اَوْ نُدُران إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِع فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ ) ے یعنی بڑے بڑے مقتدر سردار مر جائیں گے۔ے۔الزام دور کرنے یا ڈرانے کو۔۔کچھ شک نہیں جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور ہو کے رہے گا۔۹۔جب ستارے ماند کر دیے جائیں گے۔آیت نمبر ۲۔وَالْمُرْسَلت۔وہ نرم ہوا ئیں جو کان میں عرف لاتی ہیں۔ہوا کے بغیر انسان کے کان میں آواز نہیں آ سکتی پھر تیز ہوائیں جو برائیوں اور غلاظتوں کو دور کرتی ہیں اور اس کو پھیلاتی ہیں۔اس بیان میں جسمانی اور روحانی بیانات ہیں جیسا کہ اسرار قرآنی کا خاصہ ہے۔الفاظ مُرسَلَاتِ۔عَاصِفَاتِ۔نَاشِرَات۔فَارِقَات اور مُلقِیات اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہیں جو ہزار ہا بیرونی و اندرونی و آفاقی نفسی ، روحانی و جسمانی امور پر دلالت کرتی ہیں۔اس طرح وجود قیامت پر بے حد دلیلیں پیدا ہوتی ہیں۔آیت نمبر ۴ - وَ النَّشِراتِ نَشْرًا على قدر طاقت شرائع کو پھیلاتی ہیں۔آیت نمبر 1۔فَإِذَا النُّجُومُ ظمِسَت۔یعنی علماء مٹ جائیں گے۔