اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1245 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1245

تبرك الذي ٢٩ وَوُجُوهٌ يَوْمَبِذٍ بَاسِرَةٌ تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ 6 كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِ وَقِيْلَ مَنْ رَاقٍ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ إلَى رَبِّكَ يَوْمَينِ الْمَسَاقُ فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى ۱۲۴۵ ן القيمة ٧٥ ۲۵۔اور بہت سے منہ اس روز بہت ہی بگڑے ہوئے ہوں گے۔۲۶۔یقین کریں گے کہ ان پر کمر توڑ دینے والی مصیبت ڈالی جائے گی۔۲۷۔سن رکھو اصل یہ ہے کہ جب ( جان گلے اور ) ہنسلی تک آ پہنچے گی۔۲۸۔اور تلاش کرے گی کہ کوئی جھاڑ پھوکنے والا ہو یا کون اس کو لے جانے والے ہیں رحمت کے یا عذاب کے فرشتے۔۲۹۔اور اس نے یقین کر لیا کہ یہ جدائی ہے۔۳۰۔اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹنے لگے گی (یعنی سخت گھبراہٹ ہو گی )۔۳۱۔آج تیرے رب کی طرف جانا ہے۔۳۲۔نہ تو تصدیق کی، نہ نماز پڑھی۔(بقیہ حاشیہ ) دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم روز آفتاب کے دیکھنے میں جبکہ ابر نہ ہو یا روک نہ ہو کچھ شک کر سکتے ہو۔عرض کیا نہیں۔پھر فرمایا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں جبکہ بادل یا روک نہ ہو تم کو کچھ شک ہوسکتا ہے۔عرض کیا نہیں۔فرمایا اسی طرح رب کو دیکھو گے (ابن کثیر ) سب صحابہ اور تابعین اور ائمہ کا اس پر اتفاق ہے اور یہ آیت دیدار الہی کے اثبات میں صریح ہے۔آیت نمبر ۳۰۔وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ۔حضرت عباس فرماتے ہیں کہ نزع رُوح کے وقت دنیا اور آخرت کا ملنا یعنی دنیا کا آخر زمانہ اور آخرت کے پہلے زمانہ کا شروع مراد ہے۔حضرت حسن فرماتے ہیں کہ لَفٌ سَاقَین سے مراد کفن کا پنڈلیوں پر لپیٹنا ہے۔آیت نمبر ۳۲- فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلی۔اس میں تصدیق رسول کو نماز سے مقدم رکھا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے نماز میکنی و قبله رانمی دانی ندانمت چه غرض زمیں نماز ها باشد (هَذَا قَالَ مَسِيحُ الْمَوْعُود ) امامت وغیرہ کے لئے تصدیق الامام کی ضرورت اس آیت سے ثابت ہے۔