اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1244
تبرك الذي ٢٩ ۱۲۴۴ القيمة ٧٥ إلَى رَبَّكَ يَوْمَينِ الْمُسْتَقَرُّة ۱۳۔تیرے پروردگار کی جانب اس روز ٹھہرنا ہے۔يُنَبَّوا الْإِنْسَانُ يَوْمَبِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَرَ ۱۴- انسان کو جتایا جائے گا اس دن جو کچھ اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيْرَةٌ ۱۵۔بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے۔وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيْرَهُ ۱۶۔گو پیش لایا کرے اپنے بہانے (یا ہر چیز کو چھپاتا رہے)۔لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ۱۷۔نہ ہلا قرآن پڑھنے پر اپنی زبان تا کہ تُو جلدی اس کو یاد کرے۔إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ * ۱۸۔بے شک ہمارے ذمہ ہے قرآن کا جمع کرنا اور پڑھنا۔فَإِذَا قَرَأْنَهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ ® ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ وَجُوْهٌ يَوْمَذٍ نَّاضِرَةٌ إلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ۱۹۔پھر جب کہ ہم پڑھا چکیں تو اس کے بعد تو بھی پڑھا کر۔۲۰۔پھر اس کا سمجھانا ہم پر فرض ہے۔۲۱۔ایسی بات نہیں بلکہ تم تو دوست رکھتے ہو دنیا ہی کو ( جو جلد گزرنے والی ہے)۔۲۲۔اور چھوڑتے ہو آخرت کو۔۲۳۔بہت سے چہرے اس دن تازہ۔۲۴۔اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔آیت نمبر ۱۷۔لَا تُحَرِّكُ۔اس کی تفسیر آیت وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ (طه: ۱۱۵) میں ہے۔آیت نمبر ۱۸ - جَمْعَهُ وَ قُرآنَ۔یہ ایک پیش گوئی تھی کہ قرآن صحیفوں متفرق حصوں میں بیس سال تک اتر تا رہا۔تو ان کا جمع کرنا آسان کام نہ تھا۔اللہ ہی نے اسے جمع کیا اور اسے پڑھایا۔ہاں حضرت عثمان وحضرت ابوبکر وغیرہ حضرات نے قرآن مجید کو شائع کیا۔آیت نمبر ۲۴۔فائدہ۔حدیث میں آتا ہے کہ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا ہم قیامت میں اپنے رب کو