اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1233 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1233

تبرك الذي ۲۹ ۱۲۳۳ المزمل ٧٣ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلات -۵ یا آدھی سے کچھ بڑھادے اور قرآن کو۔آہستہ آہستہ پڑھا کر سوچ سمجھ کر۔إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا۔قریب ہی ڈال دیں گے تجھ پر بھاری بوجھ ہے۔اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطْئًا ۷۔رات کا جاگنا نفس کے کچلنے کے لئے سخت وأَقْوَمُ قِيْلاة تر ہے اور اس میں بات کی نکلتی ہے۔انَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا تجھ کو دن میں بڑے بڑے کام رہتے ہیں۔ے وحی رسالت و عبادات وغیرہ۔(بقیہ حاشیہ) سورۃ بنی اسرائیل - لَا تَجْعَلْ مَعَ اللهِ (بنی اسرائیل : ۲۳) میں مخاطب خاص آپ معلوم ہوتے ہیں۔اس تمام رکوع میں یہی طرز ہے کہ مراد عام ہے اور مخاطبات خاص۔تو تہجد سب ہی کو پڑھنا چاہئے اور مشکوۃ شریف وغیرہ میں آیا ہے کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ قیامت کے دن سب لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے اور ایک پکارنے والا پکارے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو اپنے بستر چھوڑ کر تہجد اور صبح کی نماز کے لئے اٹھا کرتے تھے وہ کھڑے ہو جائیں گے وہ تھوڑے ہی ہوں گے۔پس ان کو مل جائے گا حکم کہ تم بلا حساب جنت میں چلے جاؤ۔اس کے بعد دوسروں کا حساب شروع ہوگا اور فرمایا رحمت اس شخص پر جو تہجد کے واسطے آپ۔بھی اٹھے اور اپنی بیوی کو بھی اٹھا وے اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی مارے اسی طرح عورت کرے۔آیت نمبر ۵ - ترتیلا۔آہستہ آہستہ پڑھا کر۔سوچ سمجھ کر تو شبیہ حفاظ محلّ تأمل ہے وہ بھی رمضان شریف میں جیسا کہ عوام میں عادت پڑی ہوئی ہے۔آیت نمبر ۸ - سَبْحًا طَوِيلًا۔سَبْعَ کے اصلی معنے چلنے پھرنے اور بڑے بڑے کام کرنے کے ہیں۔پیراک بھی سابح کہلاتا ہے جو اپنی نجات کے لئے ہاتھ پیر مارا کرتا ہے۔یہاں سَبْحًا سے تَصَرُّف فى الحوائج مراد ہے جو تمام دین کے کاموں میں تجھے کرنا پڑتی ہے۔نماز پڑھنا پڑھانا۔مریضوں کی عیادت۔جنازوں کا پڑھانا۔فقراء اور مہاجرین کی اعانت۔طلاب کو تعلیم۔متقیوں کو ارشاد و فتویٰ صلح کرنا۔مخالفوں سے لڑنا۔ذاتی کام کاج۔بیبیوں کی ضروریات کا خیال رکھنا اسی قسم کے لاکھوں دینی کام سَبْحًا طَوِيلًا ہیں۔سند العلماء حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (الم نشرح: ۲) کی تحت میں حضور کی کارگزاریوں کی خوب تفسیر کی ہے شائقین وہاں ملاحظہ فرماویں۔