اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1232
تبرك الذي ٢٩ ۱۲۳۲ المزمل ٧٣ سُوْرَةُ الْمُزَّمِّلِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ إِحْدَى وَ عِشْرُونَ آيَةً وَّ رُكُوعَانِ بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ مزمل کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس يَايُّهَا الْمُزَّمِّلة قُمِ الَّيْلَ إِلَّا قَلِيْلًان نِصْفَةَ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا اللہ کے نام سے جس نے عابدوں کو پہلے ہی سے سمجھ دے رکھی ہے اور ان کی کچی کوشش کا بدلہ بھی دینے والا ہے۔۲۔اے قرآن کے اٹھانے والے نبوت کی خلعت پہننے والے! کھڑا رہا کر رات کو مگر تھوڑی ہی رات۔۴۔نصف یا اس میں سے کچھ کم کر۔تمهید - بزاز ، طبرانی اور ابونعیم نے شانِ نزول یہ بیان کیا ہے کہ دارالندوہ میں قریش نے جمع ہو کر آنحضرت ﷺ کا نام رکھنا چاہا۔کسی نے شاعر، کسی نے مجنون کسی نے ساحر، کسی نے کا ہن تجویز کیا۔آپ کو بُرا معلوم ہوا اور کمبل کی چادر اوڑھ کر لیٹ گئے اس وقت یہ سورۃ اور سورۃ مُدَّتر اتری۔ان سے بھی پہلے اِقْرَءُ۔مَالَمُ يَعْلَمُ تک اتری تھی۔اوّل مُدَّتو پھر مُزمل۔کچھ اختلاف بھی ہے مگر اس پر اتفاق ہے کہ یہ اوائل سورۃ ہیں اور ان الفاظ مُزَّمِّل و مُدَّتو میں تلطف اور تنبیہ بھی مد نظر ہے۔آیت نمبر ۴ - نصفه - تہجد - رات کی نماز - نِصْفَةَ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ مراد یا تو چھ بجے شام سے نو بجے رات تک اور پھر تین بجے سے چھ بجے تک تجد۔قرآن، تسبیح تہلیل کا وقت ہے یا اڑھائی بجے سے پس نصف شب ہو جاتی ہے یعنی چھ گھنٹے کیونکہ مغرب کے بعد سے نو بجے تک تین گھنٹے اور تین بجے سے چھ بجے تک یا اڑھائی بجے سے چھ بجے تک جملہ چھ گھنٹے ہوئے جو نصف شب ہوتی ہے یا چونکہ راتیں بڑھتی گھٹتی رہتی ہیں اس لئے متوسط رات میں نصف شب ہے اور چھوٹی راتوں میں نصف سے کم اور بڑی راتوں میں نصف سے زیادہ قیام کرنے کا ارشاد ہے اور چونکہ حکم قطعی نہیں بلکہ آؤ کے ساتھ ارشاد ہوا ہے تو طبیعت کے نشاط وانشراح پر بھی اس قیام اللیل کو حوالہ کیا گیا ہے یعنی چھوٹی راتوں میں بحالت نشاط زیادہ قیام کرسکتا ہے اور بڑی راتوں میں بحالت عدم نشاط کم اس نماز کو پڑھنے والے اور مداومت کرنے والے ( ہیں )۔ایک حدیث میں حضور کی زبانی اَشُرَافُ أُمَّتِی کا خطاب پاتے ہیں۔شرف کے معنے بلند درجے کے ہیں۔یہ نماز رسول اللہ ﷺ سے مخصوص نہیں ہے جیسے عوام کا خیال ہے کیونکہ قرآنی طرز اسی قسم کا ہے کہ کبھی مخاطب خاص اور بیان عام ہوتا ہے جیسا