اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 117
تلك الرسل ٣ مَعَ الرَّاكِعِينَ ۱۱۷ تو بھی جھک۔ال عمران ۳ ذلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيْهِ إِلَيْكَ ۴۵۔یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم بھیجتے ہیں تیری طرف اور تو موجود تو تھا ہی نہیں ان کے پاس وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُوْنَ أَقْلَامَهُمْ جب انہوں نے قلمیں ڈالیں ( دریائے پر دن پر ) أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ کہ کون مریم کی پرورش کا ذمہ دار ہو اور جب وہ جھگڑ رہے تھے اس وقت بھی تو وہاں موجود نہ تھا۔لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ إِذْ قَالَتِ الْمَلكَةُ لِمَرْيَمُ إِنَّ اللهَ ۴۶ - جب کہا فرشتوں نے اے مریم ! اللہ تجھ کو خوش خبری دیتا ہے اپنے کلام سے (ایک يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ المُسَيْحُ لڑکے کی ) اُس کا نام مسیح عیسی مریم کا بیٹا ہے وہ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا عزت دار ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ کے وَالْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ مقرب بندوں میں سے ہوگا۔وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَ مِنَ ۴۷۔اور باتیں کرے گا لوگوں سے جھولے میں الصلِحِينَ (بقیہ حاشیہ ) اس لئے سجدہ کا پہلے حکم آیا ہے۔(یعنی چھوٹی سی عمر میں ) اور عقل کے زمانہ میں (یعنی تمہیں برس کے اُدھر بھی ) اور نیکوں میں سے ہوگا۔آیت نمبر ۲۵ - انباء الْغَيْبِ۔یہ ایک پیش گوئی ہے جیسے زکریا " کو بعد دعا کامیابی ہوئی۔اسی طرح جماعت صحابہ اہلِ مکہ کو کہا کہ تم بھی کامیاب ہو جاؤ گے اور یہ ملک آباد و قائم رہے گا اور یہاں ایک ہونہار بچہ پیدا ہونے والا ہے جو عروس مکہ کے لئے موجب فخر ہوگا دیکھو یسعیاہ باب ۵۴۔آیت نمبر ۴۶ - إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ - فرشتے کہتے ہیں ہم تجھے اللہ کے کلام سے ایک بشارت سناتے ہیں خود نہیں کہتے ہیں۔آیت نمبر ۴۷ - وَكَهْلًا۔یہ حضرت مریم کے لئے پیش گوئی ہے۔تیرا بچہ گونگا نہ ہو گا۔بچپنے میں نہ مرے گا۔عمر رسیدہ ہوگا۔