اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1227 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1227

تبرك الذي ٢٩ ۱۲۲۷ الجن ١٢ سُوْرَةُ الْجِنِّ مَكَّيَّةٌ وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ آيَةً وَّ رُكُوعَانِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ جن کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن ورحیم ہے۔قُلْ أُوحِيَ إِلَى أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرُّ مِنَ ۲ - تو سنادے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ مجھے الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَيَّان ( قرآن ) پڑھتے سن گئے ہیں چند جن پھر انہوں نے کہا ہم نے عجیب ہی قرآن سنا ہے۔يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَأَمَنَابِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ - جو نیک راہ سکھاتا ہے تو ہم نے تو اسے مان لیا اور ہم تو کبھی شریک نہ ٹھہرائیں گے اپنے رب کا کسی کو۔بِرَبْنَا أَحَدًان آیت نمبر ۲۔نَفَرٌ مِّنَ الْجِن۔سورۃ الاحقاف رکوع ۴ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جن موسیٰ کی کتاب کو مانتے تھے اِنَّا سَمِعْنَا كِتبًا اُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسى (الاحقاف: ۳۱) - باوجود اس کے کہ موسیٰ کی کتاب میں ایک : نبی موسیٰ کی مانند آنے کی پیشگوئی ہے لیکن ان کو خیال بھی ہو گیا تھا کہ اب خدا کسی کو مبعوث نہیں کرے گا اسی طرح یوسف علیہ السلام کی قوم نے کہا۔لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا (المؤمن: ۳۵) اور جیسا کہ آج کل کے مسلمان با وجود یہ جاننے کے کہ نبی کریم نے پیشگوئی کی ہے (کذا فی المشکوۃ جلد چہارم) کہ ایک نبی اس اُمت میں سے آنے والا ہے پھر کہتے ہیں کہ اس امت میں نہ کوئی آنے والا اور نہ کسی کی ضرورت ہے۔بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُونَ (المؤمنون: ۸۲) تفسیر میں لکھا ہے کہ نصیبین یمن کا ایک بڑا شہر تھا وہاں کے یہود جن کہلاتے تھے۔سوق عُکاظ میں وہاں کے لوگ آتے تھے اور قرآن سن کر حیران ہوتے چنانچہ سورۃ احقاف رکوع ۴ پ ۲۶ میں مذکور ہے يُقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتبًا۔۔۔الخ (الاحقاف: ۳۱) جس میں تعصب کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کا اسم شریف نہیں لیا۔بخاری شریف اور مشکوۃ کی حدیثوں میں جن کے معنے سانپ۔کالا کتا مکھی بھنوری۔چیونٹی۔اجرام وبائی۔بجلی۔دشمن کے ملک میں ایک یا دو جانے والے کبوتر اور باز اور اس کے پیچھے دوڑنے والا۔زقوم۔بائیں ہاتھ سے کھانے والا۔سنگھ۔جلی ہوئی روٹی۔گدھا۔بال پراگندہ رکھنے والا۔شاعر۔غراب۔ناک یا کان کٹا۔شریر سردار۔بکریاں۔گائیں وغیرہ کے آتے ہیں۔اور جن اور ملائکہ ضرور ضرور ایک مخلوق الہی ہیں جو کبھی کشفی طور پر نظر آ جاتے ہیں اور ظاہر میں دیکھنے والی مخلوق نہیں۔بڑے آدمیوں کو بھی جن کہتے ہیں جیسے جِنُّ النَّاسِ مُعَلِّمُهُمُ شاید اسی سے ہندی کا مہاجن بنا ہو گا۔غالباً سہو کا تب ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہونا چاہیے۔(ناشر)