اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1218
تبرك الذي ٢٩ ۱۲۱۸ المعارج ٧٠ سُوْرَةُ الْمَعَارِجِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ خَمْسٌ وَّ أَرْبَعُونَ آيَةً وَّ رُكُوعَان بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمُ سَالَ سَابِل بِعَذَابٍ وَاقِع ن لِلكَفِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِع ) مِّنَ اللهِ ذِي الْمَعَارِجِ ) ا۔ہم سورہ معارج کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔۲۔طلب کیا ایک طالب نے ایسا عذاب جو ہونے والا ہے۔۔کافروں کو جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔۴۔اللہ کی طرف سے جو عروج کا مالک ہے۔تَعْرُجُ الْمَلَيْكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمِ ۵۔فرشتے اور کلام اس کی طرف چڑھیں گے كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِيْنَ أَلْفَ سَنَةٍ ® اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار برس کی ہے۔فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا ۶۔تو صبر کر اچھی طرح۔ے۔کا فر تو اس دن کو بعید سمجھتے ہیں۔۔اور ہم تو قریب ہی دیکھتے ہیں۔إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًان ونَريهُ قَرِيبات يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءِ المُهْلة۔جس دن ہو جائے گا آسمان پچھلے ہوئے تانبے کی طرح۔آیت نمبر ۴۔ذِي الْمَعَارِجِ اللہ بہت درجے والا اور بڑی شان والا ہے۔چونکہ تو اس سے تعلق رکھتا ہے اس لئے تو بھی صاحب معراج ہے اور ہوگا۔آیت نمبر ۵۔خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ - سورۃ سجدہ میں بھی اَلْفَ سَنَةٍ (السجدة :1) آیا ہے۔یہ تغیرات زمانی عظیم واقعات کی حیثیت سے مختلف ہوتے رہتے ہیں۔مثلاً ایک تمہیں سال کا دور جس میں خلافتِ حقہ کا خاتمہ ہو۔دوسرے ساٹھ سال کا جس میں حضرت معاویہ کا انتقال ہوا جن کے بعد کوئی صحابی بادشاہ نہیں ہوا۔ایک سوسال کا دور جس میں روایت بلا واسطہ ختم ہو گئی۔ایک دور پانچ سو سال کا جس میں عرب کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ایک دور ہزار سال کا جس کے بعد یا جوج ماجوج کا غلبہ شروع ہو گیا۔ایک دور پچاس ہزار سال کا جس میں تمام دنیا الٹ پلٹ ہو جاتی ہے اور انبیاء کا نام نہیں رہتا۔