اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1216
تبرك الذي ۲۹ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلِ كَرِيمٍ ۴۰۔اور اُن کی جو تم نہیں دیکھتے۔الحاقة ٦٩ ۴۱۔کہ بے شک یہ قرآن شریف رسول کریم کی تلاوت کی چیز ہے۔وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا ۴۲۔اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں۔تم لوگ تو بہت تُؤْمِنُوْنَ کم یقین رکھتے ہو۔وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ۴۳۔نہ کسی کا ہن کا قول ہے تم تو بہت ہی تھوڑا تَنزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَلَمِينَ مجھتے ہو۔۴۴۔رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ ۴۵۔اور اگر کوئی بات بنالا تا یہ پیغمبر ہم پر خود۔آیت نمبر ۴۵۔وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ۔سیدھا ہاتھ۔عمدہ تعلیم اور صداقت ، معاملات قدرت۔اللہ نے ہاتھ پاؤں کی کل ورید میں دائیں طرف رکھی ہیں اور بائیں طرف صرف بائیں ہاتھ کی اور یہ کلام رسول اللہ خود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کر دیتے تو مارے جاتے اور ان کی تعلیم اور صداقت پھیلتی نہیں۔اب یہ آیت ہمیشہ کے لئے قانونِ ناطق قرار پائی کہ اگر کوئی مامور من اللہ ہونے کا جھوٹ دعویٰ کرے تو وہ اس قدر مہلت نہیں پا سکتا جس قدر کہ سرور کائنات علیہ الصلوۃ والسلام نے مہلت پائی تھی۔یعنی تئیس برس۔بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ قاعدہ تو کچھ ٹھیک نہیں۔مگر وہ نہیں جانتے کہ اگر کسی جھوٹے نے کوئی دعویٰ کیا تو کیا اس نے اپنے مفتریات الہامات کو تحریر کر کر شائع بھی کیا ہے اور اس کو منجانب اللہ بھی بتایا ہے اور یہ ثابت نہیں بعض مسیلمہ کذاب کی نسبت بھی کہتے ہیں کہ خود حضرت ہی کا انتقال ہو گیا اور وہ زندہ رہا مگر یہ نہیں سمجھتے کہ وہ حضرت کا مکذب نہیں تھا بلکہ مقسم اور وہ اپنے مفتریات کو پھیلانے ہی نہیں پایا تھا چند ہی ماہ کے بعد حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں ہلاک ہو گیا اور تئیس برس کی میعاد نہ ختم کر سکا۔سجاح جو تھی وہ چپ ہوگئی بلکہ سکوت میں اسے توفیق ملی کہ وہ تائب ہو کر مسلمان ہو گئی۔اس آیت سے بھی حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود علیہ السلام کے منجانب اللہ ہونے اور بچے مامور ہونے کا کافی ثبوت ملتا ہے اور باوجودیکہ وہ سخت سخت قسمیں کھا کھا کر اپنے دعویٰ پر اصرار کر رہے ہیں اور ۲۳ برس کی میعاد مقررہ بھی پوری ہو چکی مگر ان کو سوائے ترقی کے اور کوئی امر پیش نہیں آیا وَ هَذَا عَلامَاتُ الصِّدْقِ امَنَّا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَبِخَلِيْفَةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ اور یہ بحث متعلق نبوت سے ہے۔اسی طرح کتاب استثنا باب ۱۸ میں ہے کہ تقول کرنے والا قتل کیا جائے گا اور بے شک ہمارے سرکار دو جہان حضور ﷺ نے اپنی زندگی کے تئیس برس رہ کر ثابت کر دیا کہ جو اتنے عرصہ تک بلا قتل وصلیب وغیرہ زندہ