اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1214
تبرك الذي ۲۹ ۱۲۱۴ الحاقة 19 يَوْمَبِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنْهُ خَافِيَةٌ منكم ۱۹۔اس روز تم پیش کئے جاؤ گے تو تمہارا کوئی راز چھپا نہ رہے گا۔فَأَمَّا مَنْ أُوتِي كِتبهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ ۲۰۔پس جس کو کتاب داہنے ہاتھ میں دی گئی تو وہ ۲۰۔حساب سے ملنے والا ہوں۔هَاؤُمُ اقْرَءُ وَا كِتَبِيَة ® کہتا پھرے گا لو آؤ ! میری کتاب پڑھو۔إنِّي ظَنَنتُ أتي ملقٍ حِسَابِيَّة ۲۱۔میں یقین رکھتا تھا کہ بے شک میں اپنے فَهُوَ فِي عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ فِي جَنَّةِ عَالِيَةٍ قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ۔۲۲۔پس وہ شخص تو بڑے عیش اور پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔۲۳۔بلند بہشت میں۔۲۴۔جس کے میوے جھکے ہوئے ہیں۔كُلُوا وَاشْرَبُوا هَيْئَاً بِمَا أَسْلَفْتُم ۲۵۔ان سے کہا جائے گا کھاؤ پیو رچتا پچتا ان اعمال کے نتیجوں میں جو تم گزشتہ زمانہ میں کر فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ چکے ہو۔وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتُبَهُ بِشِمَالِهِ * ۲۶۔اور جس کے بائیں ہاتھ میں کتاب دی گئی فَيَقُولُ يُلَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَبِيَهُ تو وہ کہے گا کاش مجھ کو میرا نامہ اعمال نہ ملتا۔۲۷۔اور مجھے خبر بھی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَّة ® ہے۔(بقیہ حاشیہ ) اٹھائے ہوئے ہیں۔تمام عالم اسباب اپنی جزئیات کے ساتھ اور مَالَهُ وَ مَا عَلَيْهِ ان کا ہے۔سب کا دار و مدار انہی صفات پر ہے جو حاملین ذات ہیں اور بعد انقطاع عالم کے ان کے اندر سے اور چار صفات کا ظہور ہو گا جن کا ظہور یہاں پوشیدہ ہے اور اس کا ظہور عالم آخرت سے کامل اور پورا تعلق رکھتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے کہ اس روز تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھا ئیں گے۔عرش صفت الہی ہے کوئی مخلوق نہیں۔اسی طرح گرسی حسب بیان اَصَحُ الْكُتُبُ (یعنی بخاری) كُرْسِيُّهُ : عِلْمُهُ۔یہ بھی ایک صفت ہے نہ کوئی جسمانی چیز۔