اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1211
تبرك الذي ۲۹ ۱۲۱۱ القلم ٦٨ الْحُوْتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَحْظُومن اور اس کے حکم کا منتظر رہ) مچھلی والے کے مانند نہ ہو جا۔جب اس نے اللہ کو پکارا اور وہ دل آزردہ اور غم سے پُر تھا۔لَوْلَا أَن تَدْرَكَهُ نِعْمَةٌ مِنْ رَّبِّهِ لَنُبِذَ ۵۰۔اور اگر اُس کو نہ سنبھالتا تیرے رب کا فضل تو وہ بُرے حال اور چٹیل میدان میں پھینک بِالْعَرَاءِ وَهُوَ مَذْمُوم دیا جاتا۔فَاجْتَبَهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصُّلِحِينَ ۵۱ - پھر اس کو چن لیا اس کے رب نے اور کیا۔اس کو سنوار والے بندوں سے۔وَإِنْ يَكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ ۵۲۔اور قریب ہے کہ منکر آنکھوں سے تجھے بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ گھور گھور کر پھنسلا پچھلاویں لے جب وہ سنتے إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ ہیں قرآن اور بولتے ہیں کہ یہ بھی ضرور دیوانہ ہے۔۵۳۔اور قرآن تو کچھ نہیں مگر تمام جہانوں کے واسطے پند و یادگارا ہے۔ا حسد و غصہ بھری نظروں سے تیری استقامت میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں تا کہ تم ڈر کر قرآن سنانا چھوڑ دو۔آیت نمبر ۴۹۔صَاحِبِ الْحُوتِ۔یونس نبی نے تبلیغ سے گھبرا کر دوسری طرف جانے کا قصد کیا۔ہمارے حضور کو یہ حال سنا کر مضبوط کیا جاتا ہے کہ آپ نہ گھبرائیں۔حُوت کے معنے تیزی کے بھی ہیں۔