اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1208
تبرك الذي ۲۹ مضحين وَلَا يَسْتَثْنُونَ ۱۲۰۸ پھل ضرور تو ڈلیں گے صبح ہی۔۱۹۔اور انشاء اللہ بھی نہ کہالے۔القلم ٦٨ فَطَافَ عَلَيْهَا طَابِفٌ مِنْ رَّبِّكَ وَهُمْ ۲۰۔پھر اُس پر تیرے رب کی طرف سے ایک بلا پھر گئی اور وہ سوتے کے سوتے ہی رہے۔نَا بِمُوْنَ فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِن ۲۱۔اور وہ صبح تک ایسا رہ گیا گویا تمام میوہ کاٹ لیا گیا۔فَتَنَادَوْا مُصْبِحِيْنَ ۲۲۔تو ایک دوسرے کو صبح ہوتے آواز دی۔آنِ اغْدُوا عَلَى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ ۲۳ - کہ اپنے باغ میں سویرے ہی چلو جب تم صرِمِينَ فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُوْنَ کاٹنا چاہتے ہو۔۲۴۔پس چلے اور وہ ایک دوسرے سے چپکے چپکے کہتے جاتے تھے۔انْ لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينُ ۲۵- کہ باغ میں اندر نہ آنے پائے آج تمہارے وَغَدَوْا عَلَى حَرْدِ قْدِرِينَ پاس کوئی فقیر۔۲۶۔اور سویرے ہی جا پہنچے بل کی نیت سے اپنے کو پورا قادر سمجھ کر۔فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَاتُوْنَ ) ۲۷۔پھر جب باغ کو دیکھا تو لگے کہنے ہم تو بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ) راستہ بھول گئے ہیں۔۲۸۔نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی۔قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلَا ۲۹۔(ان کے) منجھلے اور بہتر آدمی نے کہا کیوں میں تُسَبِّحُونَ نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔یا فقیروں کا حصہ چھوڑ دیں اس سے استثنا نہ کیا۔(بقیہ حاشیہ ) والوں کا سب باغ اُجڑ جائے گا اور اُن کے اونچے اونچے پھل یعنی گردن کش لوگ کٹ جائیں گے اگر وہ نیک بختوں کی راہ نہ چلیں گے۔