اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1203
تبرك الذي ۲۹ ۱۲۰۳ الملك ٦٧ رِزْقَهُ ۚ بَلْ تَجُوا فِي عُتُةٍ وَ نُفُورٍ رحمن روزی بند کر دے؟ ہاں کا فر تو سرکشی اور حق سے نفرت کرنے پر اڑے بیٹھے ہیں۔أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًا عَلَى وَجْهِةٍ اهْدَى ۲۳ - تو کیا جو شخص اپنا منہ اوندھا گئے چلے وہ أَمَّنْ يَمْشِيَ سَوِيًّا عَلَى صِرَاطٍ زیادہ راہ راست پر ہے یا وہ شخص جو سیدھا مسْتَقِيمٍ راہِ راست پر چلا جا رہا ہے؟ قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَاكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ ۲۴۔ان سے کہہ دو وہی تو رحمن ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لئے سننے کو کان اور السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْدَةَ قَلِيلًا مَّا دیکھنے کو آنکھیں اور سمجھنے کو دل بنائے۔اور تم تَشْكُرُونَ لوگ بہت ہی کم شکر گزار ہو۔قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَاِلَيْهِ ۲۵۔اُن سے کہہ دو وہی تو اللہ ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم اسی کے سامنے تُحْشَرُونَ اکٹھے کئے جاؤ گے۔وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ ۲۶۔اور وہ (بے ایمان ) کہتے ہیں کہ (عذاب یا قیامت کا ) وعدہ کب پورا ہو گا جب تم سچے ہو؟ صدِقِينَ آیت نمبر ۲۳۔عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمِ۔یہ پیشگوئی اور سردار دو جہان " کا نمونہ ہے کہ کس طرح صراط مستقیم پر سیدھا راستباز و شریفانہ طور پر چلا جا رہا ہے تم بھی اس کے قدم پر چلو کیونکہ مقابل والے منہ پر گرے ہوئے شرمندہ ذلیل ہدایت و رہنمائی کے قابل نہیں۔(مصرع) از خویشتن گم است کرا رهبری کند کے مصداق ہیں۔آیت نمبر ۲۴ - الافدة - دل دیئے۔کیا قابل قدر چیز میں عنایت فرمائی ہیں کہ جس کا شکر یہ نہ ہوسکتا ہے نہ ہو گا مگر غفلت کا ستیا ناس ہو وہ کچھ سوچنے سمجھنے دیتی ہی نہیں۔آیت نمبر ۲۶ - مَتى هَذَا الْوَعْدُ - نبی مدعی دعولى بالميعاد اپنی طرف سے ہرگز نہیں کر سکتا اسے اللہ تعالیٰ جیسا کہہ دیتا ہے۔اور وعدہ حسب مرضی الہی ٹھیک پورا اترتا ہے۔خواہ نبی کی زندگی میں ہو یا بعد ہو بشرطیکہ کسی حکمت الہی سے وہ موقوف نہ کر دیا جائے۔مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَاغُ (المائدة: ١٠٠) اور فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَاغُ (ال عمران:۲۱) مذکورہ قول کے لئے ارشاد الہی ہے۔