اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 114
تلك الرسل ٣ ۱۱۴ ال عمران ۳ ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضِ وَ اللهُ ۳۵۔یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور وہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔سَمِيعٌ عَلِيمٌ إذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَنَ رَبِّ إلى ۳۔جب عمران کی بی بی نے کہا اے میرے نذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلُ رب !میں نے منت مانی ہے تیرے لئے جو کچھ میرے پیٹ میں ہے آزاد بنا کر تو قبول دوج مِنِّى إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ) فرمالے میری منت بے شک تو بڑا سننے والا بڑا خبر دار ہے۔فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا ۳۷۔پھر جب اُس نے لڑکی جنی بولی اے میرے رب ! میں نے تو یہ لڑکی جنی اور اللہ بڑا أنثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ جاننے والا ہے جو وہ جنی اور نہیں (تمہارے الذَّكَرُ كَالْأُنثى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ گھرانہ میں اُس) عورت کے جیسا کوئی لڑکا وَإِنِّي أَعِيْدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ ( بھی ) اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اُس لڑکی کو اور اس کے بال بچوں کو شیطان مردود سے۔فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلِ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا ۳۸ تو اس لڑکی کو اس کے رب نے قبول فرمایا لے عام ہے خاص نہیں۔(بقیہ حاشیہ ) دعا تمام مذاہب کا متفقہ اصل ہے۔تیسر از کریا نبی جو کہ عمر رسیدہ تھا اس کا سپر نٹنڈنٹ ( منتظم ) بنایا گیا۔چوتھا بچپن سے ہی مریم ایسی محسنہ تھی کہ خدا کو ہر وقت اپنے سامنے جانتی تھی اور ایسی معرفت رکھتی تھی کہ وسائط کو کچھ بجھتی نہ تھی۔اُس کی معرفت دیکھ کر ہی زکریا کو ذُرِیہ طیبہ کا شوق پیدا ہوا۔آیت نمبر ۳۶۔اِذْ قَالَتِ امْرَاتُ عِمْرُنَ۔عمرانیوں کی ایک عورت نے کہا خاوند بی بی مراد نہیں۔آیت نمبر ۳۷۔وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثى - اللہ تعالیٰ نے اگر پیش گوئی کے رنگ میں فرمایا تو یہ معنی ہوں گے کہ اس لڑکی کے تو جیسا لڑکا نہ ہوگا۔وَاِنّى أَعِيْدُهَا بكَ الخ۔اور میں اس لڑکی کو تیری پناہ میں دیتی ہوں۔کیا اچھا پاک طریق ہے سب دینداروں کو چاہئے کہ جماع سے پہلے ماں باپ اور حمل سے پہلے ماں یہ دعا پڑھا کرے۔