اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1199 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1199

تبرك الذي ۲۹ ١١٩٩ الملك ٦٧ سُوْرَةُ الْمُلْكِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ إِحْدَى وَ ثَلَاثُونَ آيَةً وَّ رُكُوعَان۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ ملک کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن ورحیم ہے۔شهار تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى ۲ بڑا بابرکت ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ملک ۲۔كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُن ہے اور وہ ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ۔جس نے موت و زندگی اس لئے پیدا کی کہ ہم أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ میں جو اچھے عمل کرے اسے انعام دے۔وہ عزیز (بقیہ حاشیہ) گناہوں سے بچائے اور جسم کے عام سوراخوں کی حفاظت کرے تو وہ وحی الہی سے مشرف ہو جائے گا اور مصدق ہوگا اور خدا کا فرمانبردار ہوگا چنانچہ ہمارے زمانہ میں مریم صدیقہ کا لقب پانے والا اور نفخہ الہام الہی سے مسیح موعود علیہ السلام بروز احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہونے والا اس آیت شریف کا ظاہری مصداق بھی ہوا۔وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ آیت نمبر ۲۔اَلمُلْكُ - اے کفار! اب وہ ملک و ریاست پیارے و با برکت محمد علی کو ہم دے دیں گے۔یہ ایک پیشگوئی کے رنگ میں ہے۔آیت نمبر ۳ - اَلْمَوْتَ وَالْحَيوة - چونکہ آخرت کو ضرور یاد دلانا تھا اور اصل مقصود اور دائمی حیات اور مقام استقرار وہی تھا اس لئے اس کو مقدم فرمایا۔دنیا اور آخرت کی مثال انسان کے لئے لڑکی کی طرح ہے جس کے ماں باپ اسے پال پوس کر بڑا کریں اور پھر اُسے رخصت کر کے ضرور دوسرے کے گھر پہنچا آئیں جو اس کے ہمیشہ رہنے کا گھر ہو کیونکہ اس میں ایک جو ہر اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے جس کی شگفتگی سوائے اس کے نہیں ہوسکتی کہ وہ اس گھر کو چھوڑ کر اس گھر میں چلی جاوے خواہ اس کے ماں ، باپ اور خویش و اقرباء اس کی جدائی کے صدمہ سے روئیں اور غم کھائیں اور آنسو بہائیں پر ضرور ہے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے رخصت کریں۔اس میں ایک پیشگوئی بھی ہے کہ اس وقت جہالت کی موت اور روحانی حیات ہونے والی ہے گو یہ حالت بہت سخت و مشکل ہے مگر اس کے نتائج عمدہ وخوب ہیں۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمُ (الانفال: ۳۵) اور وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمُ (البقرة: ۲۹) اور دیگر آیات اسی طرف بلا رہی ہیں۔دنیا کی ناپائیداری نے ایک ہندی شاعر کے دل پر کیسا اثر کیا ہے جو ان الفاظ میں ادا کرتا ہے۔چلنا تو اب ٹلنا نہیں اور چلنا بسوئے ہیں ایسے سہل سہاگ پر کون گند ہائے سیٹس لِيَبْلُوَكُمْ - انعام اور ترقیات امتحان کے بعد ملتے ہیں بشرطیکہ محنت منتج حسنات بفضل الہی ہو۔(۱) مرنا (۲) بسیار ضروری اٹل ہے (۳) سر