اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1195 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1195

قد سمع الله ۲۸ ۱۱۹۵ التخريم ٦٦ سُوْرَةُ التَّحْرِيمِ مَدَنِيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ايَةً وَّ رُكُوعَانِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۂ تحریم کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔يا يُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللهُ لَكَ ٢- اے اللہ کے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تجھ پر حلال کیا ہے اپنی بیبیوں کی رضا تَبْتَغِي مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ، وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ چاہنے کے لئے اور اللہ مغفور الرحیم ہے۔قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ۔اللہ نے تمہارے واسطے قسموں کا توڑنا ٹھہرا وَاللهُ مَوْلَكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ دیا ہے۔اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہی بڑا جاننے والا حکمت والا ہے۔وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْوَاجِه ۴۔اور جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے کوئی حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّاتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللهُ بات چپکے سے کہی تھی پھر اس نے اس کی خبر کر دی اور اللہ نے نبی کو اس کی خبر کر دی تو نبی نے عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بات میں سے کچھ تو جتا دیا اور کچھ ٹال دیا پھر یعنی سورہ مائدہ میں کفارہ کا حکم موجود ہے۔آیت نمبر ۲ - لِمَ تُحَرِّهُ۔آپ نے بی بی زینب کے گھر شہد پیا۔بعض بیبیوں نے شکایت کی کہ بد بو آتی ہے۔آپ کو خیال ہوا کہ نفرت سے ان کا کہیں ایمان نہ جاتا رہے۔فرما دیا کہ شہد نہ پئیں گے۔اس سے خدا نے منع فرمایا اور تمام جہان کا لحاظ رکھا۔جن اخلاق اور حسن معاشرت کے لحاظ سے یہ انکار آپ نے کیا تھا۔یہی قصہ بخاری اور مسلم وغیرہ احادیث کی اعلیٰ کتابوں میں درج ہے۔یعنی بی بی زینب کے گھر شہد پینا۔حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کا حضرت زینب پر رشک کرنا اور آنحضرت ﷺ سے کہہ دینا کہ آپ کے دہانِ مبارک سے مَغَافِیر کی بُو آتی ہے۔آپ نے فرمایا میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اور پھر نہ پیوں گا یا بیبیوں سے چند روز آپ الگ ہو گئے تھے۔اس سے منع فرمایا۔آیت نمبر ۴۔وَ أَعْرَضَ عَن بَعْضِ۔اور کچھ ٹال دیا۔یہ ایک راز کی بات تھی جس کا ذکر نہ خدا نے کیا نہ نبی نے پھر کیوں واہیات قصے تراشے جاتے ہیں۔ہاں کوئی انتظامی معاملہ ہو گا عورتوں کو ادب سکھایا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک راز کی بات جو خاوندوں سے کریں باہر نہ بیان کیا کریں۔