اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1178 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1178

قد سمع الله ۲۸ ۱۱۷۸ الصف ٦١ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِی اسْمُةَ ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہے۔پھر جب وہ رسول ان کے پاس آ گیا أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوا کھلے کھلے نشان لے کر تو بولے یہ تو صریح قطع تعلق هذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ کرانے والا ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ۔اور اس سے بڑھ کرکون ظالم ہے جو اللہ پر الْكَذِبَ وَ هُوَ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَامِ بہتان باندھے جھوٹا حالانکہ اس کو بلایا جاتا ہے اسلام کی طرف اور ظالم تو اللہ کے بتائے ہوئے وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ راستہ پر نہیں ہیں۔يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ ۹۔یہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنے وَاللهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ یعنی جھوٹی جھوٹی باتیں بنا کر لوگوں کو بہکا دیں۔منہ کی پھونکوں سے اور اللہ تو اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے کے اگر چہ بُرا ما نا کریں کافر۔سے یعنی احمد مجھے محمد مصطفی علی کو چودھویں رات کا چاند بنا کر سب کو دکھا دے گا۔آیت نمبر - يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ - انجیل برنباس میں موجود ہے۔یہ پیشگوئی انجیل یوحنا کے۱۲، ۱۴، ۱۵، ۱۶ باب میں ہے۔احمد کے معنی ہیں اجراء الحکم۔انجیل میں یہی معنی آتے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد نبی کریم بھی آئے اور مسیح موعود بھی آئے۔احمد آپ بھی تھے اس لحاظ سے کہ آپ اللہ کی بڑی تعریف کرنے والے تھے مگر آپ محمد بھی تھے اور مسیح موعود بھی چادر احمد اوڑھ کر اسم احمد سے مشرف ہے چنانچہ وہ کہتا ہے۔اسم من گردید اسم آن وحید احمد اندر جان احمد شد پدید آں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو احمد سے خطاب کیا ہے بذریعہ وحی والہام۔اور آپ کا عَلَم عند اللہ احمد ہے اور اقْرَب إِلَى الفهم وہ مسیح موعودہی ہے کیونکہ يُدعلی اِلَى الْاِسلام کہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جائے گا یہ وہ ہو سکتا ہے جو اسلام کے بعد آئے۔نبی کریم داعی الی الاسلام تھے نہ مَدْعُو اِلَیہ۔دوسرا نبی کریم کے عہد میں تلوار سے اسلام کو مٹانے کی کوشش کی جاتی تھی لیکن اس وقت میں اللہ کے نور کومنہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہیں گے وہ مسیح موعود کا وقت ہے کہ الفاظ و حروف سے مقابلہ اسلام کا کیا جارہا ہے۔تیسرا دین اسلام کا غلبہ باقی دینوں کے مقابلہ میں۔یہ بھی مسیح موعود کا وقت ہے کیونکہ آنحضرت کے زمانہ میں ادیان کا ظہور نہ تھا تو ان پر اظہار کس طرح ہوسکتا تھا ؟ چوتھا تجارت سے ترغیب دینا یہ تجارت کی کثرت اور شغل پر دال ہے۔پانچواں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ تم اس طرح انصار اللہ بنو جس طرح مسیح ابن مریم کہتا ہے یعنی ترک جہاد بالسیف ، نرمی اخلاق سے سمجھانا ، قرائن سے مصداق احمد کا مسیح موعود ظاہر ہے۔