اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 111
تلك الرسل ٣ كَانُوا يَفْتَرُونَ ال عمران ۳ اُن کو اُن کے دین میں دھوکہ دیا ہے اُن باتوں نے جن باتوں کو انہوں نے خود بنالیا ہے۔فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنُهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ ۲۶۔پھر کیا حال ہو گا جب ہم اُن کو جمع کریں فِيهِ وَوَقَبَتْ كُلِّ نَفْس مَا كَسَبَتْ گے اُس دن جس کے آنے میں کچھ بھی شک نہیں اور پورا پورا دیا جاوے گا ہر ایک کو جو اُس وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) نے کمایا ہے اور اُن پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا۔قُلِ اللهُمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ ۲۷ تو کہہ دے اے اللہ مالک الملک ! تو بادشاہی ! تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ دے رہا ہے جس کو تو چاہتا ہے۔اور تو چھین رہا ہے حکومت جس سے چاہتا ہے کہ تو ہی عزت وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ دے رہا جس کو چاہتا ہے اور تو ہی ذلیل کر رہا ہے الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ جس کو چاہتا ہے تیرے ہی قبضہ میں ہے سب بہتری اور خیر تو ہی ہر ایک چیز کا اندازہ کرنے والا ہے۔تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي ۲۸ تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور تو ہی الَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَى مِنَ الْمَيِّتِ لے جاتا ہے دن کو رات میں اور تو ہی بے جان لے یعنی اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کوملک دیا جارہا ہے۔سے یعنی رسول اللہ اللہ کے دشمنوں مخالفوں سے۔سے کفر وتار یکی پسند کرنے والے اجالے اور ایمان میں آرہے ہیں۔آیت نمبر ۲۵ - مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ۔جو بنا لیا کرتے تھے۔تراشیدہ اور جھوٹے قصے بے سود کرامتیں جن کا ادعا جاہل صوفی اور ان کے معتقد کرتے ہیں اور بزرگوں سے بیجا عداوتیں جو فرقہ وہابیہ اور نیا چر و بدعتی وغیرہ وغیرہ سب مراد ہیں۔آیت نمبر ۲۷۔قل اللهم۔کہہ دے اللہ۔اعمال نیک کی توفیق دعاؤں سے ملتی ہے اس لئے بکثرت دعائیں اور استغفار اور درود اور لاحول اور سُورۃ الحمد کی مزاولت معنی پر نظر رکھ کر کرنا چاہئے۔آیت نمبر ۲۸۔تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ - داخل کرتا ہے رات کو دن میں یعنی بُر وں کو اچھا کرتا ہے۔وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ۔اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں یعنی جن کے گھر جگمگا رہے تھے مارے