اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1172 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1172

قد سمع الله ۲۸ ۱۱۷۲ الممتحنة ٦٠ إِن تَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً ۳۔اگر کافر تم کو پائیں تو تمہارے دشمن ہو جائیں اور تم پر دست درازی کریں گے اور زبان وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ درازی بھی برائی کے ساتھ اور چاہیں تو یہی کہ تم بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ بھی کافر ہو جاؤ۔لَنْ تَنْفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ ۴۔ہرگز تمہارے کام نہ آئیں گے تمہارے يَوْمَ الْقِيمَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمُ وَالله رشتے ناتے اور نہ تمہاری پیاری اولاد۔انجام کار اللہ کھلا کھلا فیصلہ فرمائے گا تم میں۔اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ بخوبی دیکھ رہا ہے۔بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيرٌ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ - تمہاری نیک چال کا نمونہ موجود ہے ابراہیم میں اور ان لوگوں میں جو ابراہیم کے ساتھی تھے وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا جب انہوں نے کہا اپنی قوم سے کہ ہم تو بے تعلق بُرَةٌ وَا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ہیں تم سے اور ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو اللهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الله کے سوا۔ہم تم سے منکر ہیں اور ظاہر ہو پڑی ہے ہم میں اور تم میں دشمنی اور بغض ہمیشہ ہمیشہ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ اَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوْا کے لئے۔ہاں! جب تم اللہ پر ایمان لاؤ گے بِاللهِ وَحْدَةٌ إِلَّا قَوْلَ اِبْرِهِيْمَ لِأَبِيْهِ (کون سے اللہ پر ) جو ایک ہی سچا اللہ ہے۔ہاں (بقیہ حاشیہ) کے زمانہ میں سب کے ساتھ احسان کرنا تا اینکہ دشمنوں سے بھی نیکی کرنا بہتر ہے مذہبی رعایت سے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی سے۔سعدی صاحب نے فرمایا ھے بنی آدم اعضائے یک دیگر اند مومن پہلے مذہبی رعایت کرتا ہے جو تَعْظِيمًا لامُرِ اللہ کا درجہ ہے پھر انسانی ہمدردی جو شفقت علی خلق اللہ کا مقام ہے۔خلاصہ تصوف یہ ہی دو کلے ہیں۔تعظیم لامُرِ اللهِ وَالشَّفَقَةُ عَلَى خَلْقِ الله - آیت نمبر ۴۔لَنْ تَنْفَعَكُمْ۔ہرگز تمہارے کام نہ آئیں گے رشتے ناتے والے۔قرآن شریف استدلال بالا ولی کرتا ہے منطقی طور پر نہیں۔دیکھو یہاں ابراہیم کا ذکر کر کے استدلال بالا ولی فرمایا ہے کہ ابراہیم نے خدا کے لئے اب سے بے تعلقی اختیار کی تو دوسروں کے لئے کونسا تعلق باقی رہنا چاہئے۔آیت نمبر ۵ - بِاللهِ وَحْدَةَ - ایمان بِاللَّهِ وَحْدَہ کی تفسیر صحیح وہ ہے جو نبی کریم ﷺ نے وفد عبد القیس کو بتلائی ہے یعنی اسلام کے ارکان پر چلنا اور وقت کے رسول کا حکم ماننا ( بخاری کتاب الایمان )