اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1168
قد سمع الله ۲۸ الحشر ٥٩ اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ نَافَقُوْا يَقُولُونَ ۱۲۔تو نے انہیں نہیں دیکھا جو منافق ہیں کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے جو منکر حق چھپانے والے لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ ہیں اہل کتاب میں سے اگر تم نکال دیئے جاؤ أَهْلِ الْكِتَبِ لَبِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ کے ملک سے تو ہم بھی ضرور نکل کھڑے ہوں مَعَكُمْ وَلَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ أَحَدًا اَبَدًا گے تمہارے ساتھ اور ہم تو تمہارے مقدمہ میں کبھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے لا و اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَتَنْصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ لڑائی ہونے لگے گی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ تو گواہی دیتا ہے کہ وہ بالکل برے إِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ جھوٹے ہیں۔لَبِن أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمُ ۱۳ اگر وہ وطن سے نکال دیئے جائیں گے تو بھی وطن سے نہ نکلیں گے ان کے ساتھ۔اگر وَلَبِن قُوتِلُوْا لَا يَنْصُرُونَهُمْ ۚ وَلَبِنْ ان سے لڑائی ہو گی تو ان کی مدد بھی نہ کریں گے نَّصَرُوهُمْ لَيُوَتُنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا اور اگر ان کی مدد کریں گے تو بھاگیں گے پیٹھ پھیر کر پھر ان کی کہیں مدد نہ کی جائے گی۔يُنصَرُونَ لَا نْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً فِي صُدُورِهِمْ مِنَ ۱۴۔تمہارا رعب ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ ہے یہ اس وجہ سے کہ وہ بے وقوف اللهِ ذُلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ قوم ہے۔لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرَّى ۱۵- یہ تو تم سے نہیں لڑ سکتے سب کے سب ہاں گڑیوں میں قلعہ بند ہو کر یا دیواروں کی آڑ میں مُّحَصَّنَةِ أَوْ مِنْ وَرَاءِ جُدُرٍ بَأْسُهُمْ سے۔ان کی لڑائی سخت آپس میں ہے۔تو گمان بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُـ کرتا ہے کہ وہ اکٹھے ہیں حالانکہ دل ان کے شَتَّى ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمُ لَا يَعْقِلُونَ متفرق ہیں۔یہ اس وجہ سے ہے کہ ان کو کچھ بھی عقل نہیں یہ اس وجہ سے ہے کہ۔آیت نمبر ۱۲۔نا فَقُوا۔منافق ہوئے۔یعنی یہود مدینہ جن کا سردار عبداللہ بن اُبی تھا اس پیشگوئی کے موافق وہ ان کی مدد نہ کر سکے نہ اس کے ساتھ جلا وطن ہوئے۔