اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1166
قد سمع الله ۲۸ ۱۱۶۶ الحشر ٥٩ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ ۵۔یہ اس لئے کہ انہوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول کی اور جو مخالفت کرتا ہے اللہ کی تو يُشَاقِ اللهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب تو بڑا سخت ہے۔مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لَّيْنَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا ٦ جو تم نے کاٹ ڈالا کوئی کھجور کا درخت یا اس۔کو کھڑا رہنے دیا اس کی جڑوں پر تو یہ اللہ ہی کے حکم سے تھا اور نتیجہ یہ کہ رسوا کریں فاسقوں کو۔قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَسِقِينَ وَمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا ۷۔جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو دیا (بغیر لڑائی) اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ ان یہودیوں سے تم نے تو دوڑائے نہ تھے ان پر گھوڑے اور نہ اونٹ لیکن اللہ قابض بنادیتا ہے وَلَكِنَّ اللهَ يُسَلَّط رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ اپنے رسولوں کو جن پر چاہے اور اللہ ہر ایک چیز وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرى ۸۔جو کچھ مال اللہ دلاوے بغیر لڑائی کے اپنے رسول کو بستیوں کے لوگوں سے (تو اس کے حصہ دار یہ لوگ ہیں کہ ) وہ اللہ کے لئے ہے اور وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ رسول کے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنْكُمْ وَمَا الكُمُ اور مسافروں کے لئے تا کہ نہ آوے یعنی دینے میں تم میں سے مال دار لوگوں کے اندر (یعنی فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَى ق الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهْكُمْ عَنْهُ دولت مندوں میں تقسیم نہ کیا جائے ) اور جو کچھ آیت نمبر 1 - الفُسِقِینَ۔فاسقوں کو۔بد عہدوں کو۔یہ شریر قلعوں سے نکلتے نہ تھے اس لئے یہ حکم ہوا کہ ان کے باغ کاٹ ڈالو جلا دو جب وہ باہر نکلیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آیت نمبر ے۔آفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ - اللہ نے بغیر لڑائی کے دیا۔لوٹ کا مال دو قسم کا ہے۔لڑ کر ملے تو اسے غنیمت کہتے ہیں اور جو بے لڑے ملے اسے فی کہتے ہیں۔باغ فدک بھی اسی میں سے تھا۔آیت نمبر ۸ - أَفَاءَ اللهُ عَلى رَسُولِهِ - مال اللہ دلاوے بغیر لڑائی کے اپنے رسول کو۔اس سے فدک کا فیصلہ ہوتا ہے کہ اس کے حصہ دار نو ہیں (۱) اللہ (۲) رسول (۳) ذوی القربی (۴) یتامی (۵) مساکین (۶) ابن السبیل (۷) فقرائے مہاجرین (۸) اور انصار (۹) اور سنی۔