اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1162
قد سمع الله ۲۸ المجادلة ٥٨ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ ۱۵۔تو کیا تو نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں سے دوستی کر لی جن پر اللہ خفا ہوا یہ تو نہ تم اللهُ عَلَيْهِمْ مَاهُمْ مِنْكُمْ وَلَا مِنْهُمْ میں کے ہیں نہ ان میں کے (دنیا ساز منافق وَيَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمُ ہیں ) اور قسمیں کھاتے ہیں جھوٹی بات پر حالانکہ يَعْلَمُونَ۔وہ جانتے ہیں۔أَعَدَّ اللهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا إِنَّهُمْ سَاءَ ۱۲۔ان کے لئے اللہ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ۱۶۔ہے۔بے شک وہ کام بُرے ہیں جو وہ کرتے ہیں۔مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ ۱۷۔انہوں نے ڈھال بنارکھی ہے اپنی قسموں کی پھر لوگوں کو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے تو ان کے سَبِيْلِ اللَّهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ لئے رسوائی کا عذاب ہے۔لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا ۱۸۔ہر گز نہ نفع دیں گے ان کو ان کے مال نہ ان اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ أُولَيْكَ أَصْحَبُ کی اولاد اللہ کے مقابل میں کچھ سے۔یہی ہیں آگ والے۔وہ ہی اس میں ہمیش رہیں گے۔النَّارِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ لے عدالت کے سب جھوٹے گواہ وغیرہ بھی اس میں شریک ہیں۔ہے یعنی قسمیں کھا کھا کر تم کو نیکی سے روکنا چاہتے ہیں تو تم ان کی نہ سنو۔ے یعنی مال اور اولاد کے لئے یا ان کے گھمنڈ پر لغو حرکتیں کرتے ہیں۔(بقیہ حاشیہ ) ہو اس پر نہیں۔رہنے کے گھروں میں، پہننے کے کپڑوں میں، خدمت کے غلاموں میں ، سواری کے جانوروں میں لڑائی کے ہتھیاروں میں اور کمائی کے اوزاروں میں، پڑھنے کی کتابوں میں اور جو چیزیں کہ گھر کے کاروبار میں آتی ہوں ان میں زکوۃ نہیں۔زکوۃ جن مالوں پر فرض ہے وہ تین قسم کے مال ہیں۔ایک نقدی یعنی سونا، چاندی ، رو پید اور اشرفی ، زیور ، پترے۔چاندی کا نصاب دو سو در هم یعنی باون تولہ چھ ماشه کل دار روپے سے ہوتا ہے۔کھا پی کر اتنا مال برس بھر تک بچا رہے تو اس کا چالیسواں حصہ یعنی ایک تولہ پونے چار ماشہ نکال کر خدا کی راہ میں دے اور سونے کا نصاب ہیں مثقال یعنی سات تولہ چھ ماشہ ہے۔اس کا بھی چالیسواں حصہ دے یعنی سوا دو ماشہ سونا زکوۃ میں ضرور ہے۔دوسرا مال زکوۃ مال تجارت ہے۔اس کا بھی چاندی ہی کے نصاب کے حساب سے چالیسواں حصہ دے۔تیسرا مال زکوۃ جانور ہیں جن کی شرح زکوۃ کتب فقہ میں ملاحظہ ہو۔