اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1161 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1161

قد سمع الله ۲۸ المجادلة ٥٨ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ درجے بلند کرے گا جنہوں نے مانا اللہ اور رسول کا حکم تم میں سے اور جن کو علم دیا گیا ہے ( قرآن دَرَجَتِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ اور سنت کا ) اُن کے تو بڑے ہی درجے ہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ ۱۳۔اور اے ایماندار و ! جب تم پیغمبر سے کان میں کچھ بات کرنا چاہو تو کان میں بات کرنے فَقَدِمُوا بَيْنَ يَدَى نَجْوِيكُمْ صَدَقَةً سے پہلے کچھ خیرات کر دیا کرو یہ تمہارے لئے ذلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا بہتر اور پاکیزہ تر ہے۔پھر اگر تم کو میسر نہ ہوتو فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ بے شک اللہ غفور الرحیم ہے۔أَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَى ۱۴۔کیا تم ڈر گئے کان میں بات کرنے سے نَجْوىكُمْ صَدَقْتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا پہلے خیرات کرنے سے۔پس جب تم نے ایسا نہ ، کیا اور اللہ نے تم سے درگز رفرمایا تو اب تم ٹھیک وَ تَابَ اللهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلوةَ درست کر ونمازیں اور زکوۃ دیا کرو۔اللہ اور اس وَأتُوا الزَّكُوةَ وَأَطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ کے رسول کی اطاعت کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ اللہ اسے جانتا ہے۔آیت نمبر ۱۴۔صَدَقت۔خیرات - منجملہ منسوخ آیات کے ایک اس کو بھی بتلاتے ہیں مگر وجہ منسوخیت کچھ نہیں معلوم ہوتی۔مولانا نورالدین صاحب حکیم الامت فرماتے ہیں کہ یہ حکم فرض بھی نہیں بلکہ خَيْرٌ لَّكُمُ ہے۔دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ اب رسول کریم موجود نہیں۔مولا نا فرماتے ہیں کہ حدیث شریف موجود ہے ، میں صدقہ دے کر حدیث سے مشورہ کیا کرتا ہوں۔منفرد ہونے کا ڈر تھا مگر حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ ورضی اللہ عنہ کو ایسا ہی پایا۔بہت خوش ہوا کہ منفر دنہ رہا متقیوں اور صدیقوں کے عمل و رفتار ایسے ہی ہوتے ہیں سچ ہے يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ (الانبیاء:۱۰۶) اور میرا خیال ہے کہ خلفاء رسول موجود ہیں ان کو نذر دے کر مشورہ کر سکتا ہے۔اتُوا الزَّكُوةَ - زکوۃ فرض ہے مسلمان آزاد عاقل بالغ پر۔جب مالِ نصاب کا روبار ضروری سے بیچ رہے اور نصاب پر ایک برس کامل گزرے۔حضرت امام ابوحنیفہ کے پاس غلام اور لڑ کے اور دیوانے کے مال میں زکوۃ نہیں اور علماء کے نزدیک ہے کہ ان کا ولی دے جس کے پاس صرف نصاب کے برابر ہو اور قرض زیادہ