اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1160 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1160

قد سمع الله ۲۸ 1170 المجادلة ٥٨ لَمْ يُحَتِكَ بِهِ اللهُ وَيَقُولُونَ فِي پاس آتے ہیں تو تجھ کو ایسے کلمے سے دعا سلام دیتے ہیں جس سے تجھ کو اللہ نے دعا سلام نہیں اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللهُ بِمَا نَقُولُ دی اور اپنے جی میں کہتے ہیں کہ اللہ ہم کو تمرج سرو حسب الْمَصِيرُ 色 يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ ہمارے کہنے کی سزا کیوں نہیں دیتا۔ان کو جہنم کافی ہے اس میں وہ داخل ہوں گے پس وہ کیا ہی بُری جگہ ہے! يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا ا۔اے ایماندار و ! جب تم ایک دوسرے کے تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ کان میں بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی بات نہ کرو اور کان میں بات کرو تو الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوى نیکوکاری اور تقویٰ کی اور اللہ ہی سے ڈرو اور اللہ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ہی کو سپر بناؤ جس کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔اِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَنِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ۔اس کے سوا نہیں کہ کانا پھوسی شیطانی حرکت امَنُوْا وَ لَيْسَ بِضَارِهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ ہے تا کہ وہ منگین بنائے ایمانداروں کو اوران کو تو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے بغیر اللہ کے حکم کے اور اللهِ وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ایمانداروں کو تو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا ۱۲۔اے ایماندارو! جب تم سے کہا جائے کہ کھل ۱۲۔اے فِي الْمَجْلِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللهُ لَكُمْ کر بیٹھو مجلسوں میں تو کھل کر بیٹھ جایا کرو۔اللہ تمہارے واسطے کشائش دے گا اور جب تم سے ج وَإِذَا قِيْلَ انْشُزُوا فَانْشُزُوا يَرْفَعِ الله کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کر واللہ ان کے ے بے ایمانوں کے پاس یہ رسول کے دل کا امتحان ہے کہ اگر وہ غیب کی خبریں جانتا تو ہمارا حال ظاہر کر دیتا۔آیت نمبر ۱۲۔فَافْسَحُوا۔پھیل کر بیٹھو۔کھل کر بیٹھو۔جگہ تنگ نہ کرو۔جب لوگ مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں تو کسی اجنبی کے آنے سے جگہ کشادہ کرنے کے لئے ان کو اپنی جگہ سے ہلنا پڑتا ہے۔یہ بھی ایک تکلیف اور موہوم ذلت ہے اور اسی طرح جب مجلس سے اٹھنے کے لئے بعض آدمی کو کہا جائے تو اس کو بھی ذلت سمجھا جاتا ہے بظاہر ان دونوں حکموں پر عمل کرنا چھوٹا معلوم ہوتا ہے لیکن نازک طبائع پر یہ بارگراں ہے۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اس پر عظیم الشان نتائج مرتب فرمائے۔